سستی بجلی کیلئے نیا طریقہ

2

برطانیہ کی ایک نجی کمپنی انرجی فیو ژن ری ایکٹربنانے پر کام کررہی ہے ۔(فیوژن ٹھوس مادّے کو پگھلا کر مائع میں تبدیل کرنے کا عمل ہے )جس کے دوران دوہلکے نیو کلیائی یاایٹم کے مرکزے باہم مل کر نسبتاً بھاری نیو کلئیس بناتے ہیں ،جس سے بہت زیادہ توانائی پیدا ہو تی ہے ۔فیوژن کا عمل ہی ہے جو سورج اور ستاروں کو روشنی اور حرارت دیتا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر زمین پر یہ عمل دہرانے میں کامیابی ہوگئی تو ہمیں بہت تھوڑے سے ایندھن کو جلانے سے توانائی کا بہت بڑا ذریعہ میسر آ جائے گا اور اس عمل کی خاص بات یہ ہو گی کہ اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کا اصول سمجھنے میں بہت سادہ ہے۔

ہائیڈروجن کے ایٹموں، مناسب حرارت اور دباؤ کو فیوژن کے ذریعے ہیلیم میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس عمل کے دوران ہائیڈروجن کی کچھ کیمیت حرارت میں تبدیل ہو جاتی ہے ،جس سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ یہ عمل زمین پر کرنے کے لیے آپ کو ہائیڈروجن کے آسوٹوپس کو کئی کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ پر اس وقت تک گرم کرنا پڑے گا جب تک وہ ٹوٹ کر مادّے کی وہ شکل نہ اختیار کر لیں جسے ’’پلازما‘‘ کہتے ہیں۔اس پلازما کو ایک محدود یا بند جگہ میں سمونا ہمیشہ مسئلہ رہا ہے۔ستارے تو اپنی گریویٹی یا کشش کے ذریعے اسے قابو میں رکھتے ہیں، مگر زمین پر ایسا کرنے کے لیے سب سے عام طریقہ طاقتور مقناطیسی میدان ہیں۔اس لیے سب سے بڑا چیلنج ایسے طاقتور مقناطیسوں کی تیاری ہے۔ 

ان کے اندر اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ انتہائی گرم مادّے کو بکھرنے سے روکیں، مگر اتنی زیادہ بجلی بھی استعمال نہ کریں جتنا کہ اس عمل کے نتیجہ میں پیدا ہوگی۔ڈاکٹر بوب ممگارڈ اور ان کی ٹیم اس برس آگے چل کر کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز (سی ایف ایس) میں ایک ایسے نئے مقناطیس کی آزمائش کریں گے ،جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ اس میدان میں بہت بڑی جست ہو گی۔دس ٹن وزنی اور ڈی شکل کا یہ مقناطیس اتنا بڑا ہے کہ اس میں سے ایک آدمی با آسانی گزر سکتا ہے۔ اس کے گرد تقریباً 300 کلو میٹر لمبی خاص قسم کی الیکٹرومیگنیٹک ٹیپ لگائی گئی ہے۔اس ٹیپ کو بنانے میں کئی صدیاں لگیں ۔اسے دھات کی ایک پٹی اور موصل بیریم کا پر آکسائیڈ کی تہہ چڑھا کر تیار کیا گیا ہے ۔

اس سے بنائے گیے یخ بستہ لچھوں کے اندر سے بجلی نہایت کفایت کے ساتھ گزرتی ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے ،کیوںکہ اس میں سے 40,000 ایمپئر کرنٹ گزرے گا۔ بجلی کی یہ مقدار ایک چھوٹے شہر کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔فیوژن کی صنعت میں یخ بستہ سے مراد ہے کہ اس ٹیپ کو منفی 253 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کیا جائے گا۔ آپ کو شاید یہ بات عجیب لگے، مگر سپرکنڈکٹنگ میں اس کا شمار قدرے گرم اشیا میں ہوتا ہے۔سی ایف ایس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر ممگارڈ کے مطابق ‘اس کا مطلب یہ کہ اس کے لیے ہم جو ریفریجریٹر استعمال کریں گے وہ آپ کے کچن کے اندر سما سکتا ہے۔اس سے پہلے اسی کام کے لیے جس ریفریجریٹر کی ضرورت تھی اس کی جسامت آپ کے گھر جتنی ہوتی۔سی ایف ایس اس طرح کے 18 مقناطیس ایک چھلے کی صورت میں نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس شکل کو ٹوکامیک کہتے ہیں۔

ڈاکٹر ممگارڈ کا کہنا ہے کہ ‘کسی تجربہ گاہ کی میز سے پرے اتنا بڑا مقناطیس صرف ہم نے ہی بنایا ہے۔ ہم اب اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں اب فیوژن مشین بنا سکتے ہیں۔مقناطیسی ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ پیش رفت برطانیہ میں ٹوکامیک انرجی کے فیوژن پراجیکٹ کے لیے بھی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ڈاکٹر برِٹلز کو یہ تیار کرنے میں 5 سال لگے ہیں ۔اب وہ مشین بنانے میں مدد دے رہے ہیں ،جس میں کئی طاقتور مقنا طیس ایک ساتھ مل کر کام کریں گے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت سارے کوائلز یا لچھوں کا مجموعہ ہو گا جو مل کر کام کریں گے اور باہم توازن پیدا کرکے ایک دوسرے پر انحصار کریں گے ۔اس عمل کو کنٹرول میں رکھنا ہو گا ورنہ تمام قوتوں کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ان مقناطیسی میدانوں سے پیدا ہونے والی قوتیں دماغ چکرا دینے والی ہیں۔ یہ مقناطیس ایک فیوژن ری ایکٹر میں نصب کیے جائیں گے۔تحقیق کے مطابق اس طرح ری ایکٹر کو چلانے کے لیے درکار توانائی کے مقابلے میں زیادہ توانائی پیدا کی جا سکے گی۔ یہ سی ایف ایس اور دوسروں کے زیر استعمال گول ٹکیہ نما ٹوکامیک سے زیادہ توانائی پیدا کریں گے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ کِنگھم جو ٹوکامیک انرجی کے بانیوں کا کہنا ہے کہ ‘اصل چیلنج تجارتی فیوژن ہے۔ اور یہ بات ہمارے لیے کشش کا باعث ہے۔ ہم اسی لیے بیضوی ٹوکامیک پر توجہ دے رہے ہیں ،کیوں کہ اس کے طویل المدتی فوائد زیادہ ہیں۔یہ ٹیکنالوجی 2030 ء کی دہائی فیوژن کے آزمائشی پلانٹ میں نصب کردی جائے گی ۔

اس کا سب سے بڑا منصوبہ اس وقت جنوبی فرانس میں زیرِ عمل ہے ،جس پر اب تک اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ مقررہ رفتار سے سست چل رہا ہے۔تاہم زیادہ چھوٹے ڈیزائن، جیسا کہ ٹوکامیک انرجی اور سی ایف ایس کے ہیں، اب نجی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ تجارتی بنیادوں پر کام کر سکیں گے۔ڈاکٹر وال وین لائروپ کے مطابق روایتی طور پر اس شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی رہی ہے، مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔

اب لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کا بہت بڑا شعبہ ہے اور اب اس کے بارے میں یہ تذبذب نہیں رہا کہ یہ 2050 تک کامیاب ہوگا یا نہیں۔ڈاکٹروال وین لائروپ کا کہنا ہے کہ اس کا امکانی حجم بہت زیادہ ہے۔ بجلی کی عالمی کھپت اس وقت تین ٹریلین ڈالر سالانہ کے قریب ہے، جس میں اضافہ ہی ہوگا۔اگر یہ (فیوژن) کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو یہ اس شعبے میں اتنی بڑی تبدیلی کا باعث ہوگا جو ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Optimized with PageSpeed Ninja