میرا شوہر امام مسجد ہےوہ طلاق دیکر اپنے دوست کیساتھ۔۔ 6مرتبہ نکاح اور حلالہ کرنے والی پاکستانی خاتون

ایسا امام مسجد جس نے 6مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دی اور 6مرتبہ حلالہ کروایا، نجی ٹی وی پروگرام میں شمع کی آب بیتی سن کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شمع نامی خاتون نے بتایا کہ اس کا خاوند امام مسجد تھا اور ہماری شادی ارینج میرج تھی ، میرا خاوند غصیلہ، جھگڑالو اور قوم پرست شخص تھا۔کیونکہ میرا تعلق اس کی برادری سے نہ تھا

جس کی وجہ سے اس کے خاندان میں بھی اس چیز کو لےکر لڑائی جھگڑے چلے جن کا بہانہ بناکر اس نے شادی کے 2یا ڈھائی سال بعد مجھے طلاق دیدی اس وقت میرا ایک بچہ تھا۔ طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے گھر واپس آگئی اور اپنے بچے کے حصول کیلئے بے چین رہی، اسی دوران مجھے میرے خاوند نے میرے خاوند نے پیغام بھیجا کہ میں بچہ نہیں لے جانے دوں گا اور جہاں جائو گی وہاں چین سے بیٹھنے بھی نہیں دوں گا اور مجھ پر دبائو ڈال کر حلالہ کا کہا گیا اور حلالہ کیلئے میرا نکاح اپنے ایک دوست سے کر دیا جس کے ساتھ میں ایک دن رہی ، اس کے بعد اس کے دوست نے مجھے طلاق دی اور میں نے عدت پوری ہونے کے بعد اپنے پہلے شوہر سے شادی کر لی۔ شمع نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ اس طرح مجھے میرے امام مسجد شوہر نے 6مرتبہ طلاق دی اور 6مرتبہ مجھے حلالہ کے عمل سے گزرنا پڑا

۔ شمع نے آخر کار تنگ آکر صارم برنی ٹرسٹ میں پناہ لے لی اور ٹرسٹ کے بانی صارم برنی جو پروگرام میں شریک تھے نے بتایا کہ شمع دماغی طور پر بہت متاثر ہو چکی تھی جب یہ ہمارے پاس آئی۔ اس نے تنگ آکر ہمارے پاس پناہ لی اور اب اس نے اپنے بچوں سے دوری صرف اس وجہ سے برداشت کی ہوئی ہے کہ یہ نکاح اور حلالہ کا سلسلہ ختم ہواور شمع اب ہمارے پاس ہے۔ ہم نے اس کے شوہر کے خلاف علاقہ مکینوں کو تمام حالات بتائے جنہوں نے اس کے امام مسجد شوہر جو وہاں مسجد میں فرائض سر انجام دے رہا تھا کو مسجد سے نکال دیا اور اب وہ کسی اور علاقے کی مسجد میں امامت کروا رہا ہے۔

نکاح اورحلالہ

پہلے یہ سمجھ لینا بہتر ہے کہ نکاح حلالہ کیا چیز ہے؟ نکاح حلالہ یہ ہے کہ کو ئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے یعنی اسے طلاق دیتا ہے پھر رجوع کرلیتا ہے پھر طلاق دیتا ہے پھر رجوع کر لیتا ہے پھر تیسری مرتبہ طلاق دے دیتا ہے۔ اب یہ عورت جسے اس کے شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک وہ کسی دوسرے مرد سے بسنے کی نیت سے نکاح نہ کر لے وہ اس سے ہم بستری کرے اور پھر موت طلاق یا فسخ کے ذریعے اس سے جدا ہو جا ئے ۔ تب یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گی کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ۔ ﴿الطَّلـٰقُ مَرَّتانِ فَإِمساكٌ بِمَعروفٍ أَو تَسريحٌ بِإِحسـٰنٍ وَلا يَحِلُّ لَكُم أَن تَأخُذوا مِمّا ءاتَيتُموهُنَّ شَيـًٔا إِلّا أَن يَخافا أَلّا يُقيما حُدودَ اللَّـهِ فَإِن خِفتُم أَلّا يُقيما حُدودَ اللَّـهِ فَلا جُناحَ عَلَيهِما فيمَا افتَدَت بِهِ تِلكَ حُدودُ اللَّـهِ “یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے”َ۔

۔۔پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب (وہ عورت) اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک وہ اس کے سوا کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے”پھر اگر وہ بھی (کبھی اپنی مرضی سے) طلاق دے دے تو ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔”اب اگر لوگوں میں سے کوئی شخص تیسری طلاق یا فتہ عورت سے اس نیت سے نکاح کرے کہ جب وہ اسے پہلے شوہر کے لیے حلال کردے گا تو اسے طلاق دے دے گا یعنی جب اس سے (نکاح کے بعد) ہم بستری کر لے گا تو اسے طلاق دے دے گا اور پھر وہ عورت عدت پوری کر کے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جائے گی تو ایسا نکاح فاسد و باطل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور حلالہ کرنے والے کو ادہارکے سانڈ کا نام دیا ہے ۔ یہ نکاح حلالہ دو صورتوں پر مشتمل ہے۔

پہلی صورت یہ ہے کہ عقد نکاح پر حلالے کی شرط لگائی جائے شوہر کے لیے کہا جا ئے کہ ہم اپنی بیٹی کی تیرے ساتھ اس شرط پر شادی کر رہے ہیں کہ تم اس سے ہم بستری کر کے اسے طلاق دے دو گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ (نکاح سے پہلے ) ایسی کوئی شرط تو نہ لگائی جائے البتہ حلالے کی صرف نیت موجود ہواور نیت بعض اوقات شوہر کی طرف سے ہوتی اور بعض اوقات شوہر اور اس کے اولیاء کی طرف سے۔پس جب نیت شوہر کی طرف سے ہوگی اور بے شک شوہر کے ہاتھ میں ہی جدائی (یعنی طلاق دینے) کا اختیار ہے تو ایسے نکاح سے عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی۔کیونکہ اس نے وہ نیت ہی نہیں کی جو نکاح سے مقصود ہے اور وہ ہے بیوی کے ساتھ الفت و محبت اور طلب عفت و اولاد وغیرہ سمیت زندگی گزارنا ۔ اس نکاح میں اس کی نیت نکاح کے بنیادی مقصد کے ہی خلاف ہے لہٰذایہ نکاح صحیح نہیں ہو گا۔

اور اگر (شوہر کے بر خلاف )بیوی یا اس کے اولیاء کی (حلالے کی) نیت ہو تو (پھر نکاح کا کیا حکم ہے) یہ مسئلہ اختلاف ہےاور ابھی تک مجھے دونوں اقوال میں سے زیادہ صحیح کا علم نہیں ہو سکا۔

Post Views: 11

Leave a Comment

Optimized with PageSpeed Ninja