وزیرخزانہ شوکت ترین نے خبردار کیا ہے کہ جان بوجھ کر ٹیکس نہ دینےوالوں کو گرفتار کریں گے اور ڈیڑھ کروڑ افراد کی لسٹ تیار کر لی گئی ہے۔قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فہرست میں شامل ڈیڑھ کروڑ افراد سے ٹیکس لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند سال میں نچلی سطح پر خوشحالی آئےگی۔
شوکت ترین نے کہا کہ بجٹ2021-22 میں کوئی ان ڈائریکٹ ٹیکس نہیں لگایا۔ زراعت پرایک سو پچاس ارب روپے لگا رہے ہیں۔ کھاد پرٹیکس چھوٹ ختم نہیں کر رہے لیکن ہم غربت کے لیے کم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی صرف 7 فیصد ہے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ زراعت پر خرچ نہیں کریں گے تو کھانے پینے کی اشیا درآمد کرنا پڑیں گی۔
اپوزیشن کہتی ہے کام نہیں کر رہے، آپ 20 ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئے تو ہمیں آئی ایم ایف جانا پڑا، سیاست نہ کریں میرٹ پر تنقید کریں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کی معیشت میں منفی گروتھ ہوئی۔ ہم نے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کو بڑھایا نہیں کم کیا ہے۔
فوڈ آئٹمز پرٹیکس واپس لےلیےگئے ہیں۔ آٹے اور منسلک آئٹمز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ پولٹری فیڈ پر ٹیکس 17 سے کم کرکے 10فیصد کردیا ہے۔سونے اور چاندی پر ٹیکس 17 سے کم کرکے 7اور3فیصد کیا گیا ہے اور موبائل فون پر 5منٹ سے زائد کال پر 75پیسے ٹیکس لگایا ہے۔
زرعی مشینری پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے۔پراپرٹی پرٹیکس کی شرح 35 سے20 فیصد کردی گئی ہے