کچھوؤں کے بارے میں 10 اہم حقائق جو ہر کوئی نہیں جانتا

98

کچھوؤں کے بارے میں 10 اہم حقائق جو ہر کوئی نہیں جانتا

کچھوؤں کی نسل ہمارے سیارے کی قدیم ترین نسلوں میں سے ایک ہے۔ مندرجہ ذیل میں اس حیرت انگیز مخلوق کے بارے میں وہ چند دلچسپ حقائق بیان کیے جا رہے ہیں، جن سے شاید آپ ناواقف ہوں۔

قدیم ترین مخلوق
کچھوے اس دنیا کی قدیم ترین مخلوقات میں سے ایک ہیں۔ ان کے اوليں نمونے 260 ملين برس پہلے ٹریاسک دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ خوش قسمتی سے کچھوؤں کی بل بنانے اور پانی میں رہنے کی عادت اس زمین پر ان کی طویل المدتی بقا کا سبب بنی۔

جانوروں کی دنیا میں طويل عمر والی مخلوق
ان میں سے تقریباً سبھی طویل عمریں پاتے ہيں۔ ایک عام کچھوے کی عمر 10 سے 80 سال کے درمیان ہو سکتی ہے ، جبکہ بڑی نسل کے کچھوے اکثر 100 سال سے بھی زیادہ عرصہ جیتے ہیں۔ چونکہ ایک صدی سے زیادہ عمر کی درست طریقے سے پیمائش کرنا مشکل ہے لہٰذا محققین کا خیال ہے کہ کچھوؤں کی عمر سینکڑوں سال بھی ہو سکتی ہے۔

کچھوؤں کی سینکڑوں اقسام
اس وقت کچھوؤں کی 356 معلوم قسمیں پائی جاتی ہیں۔ یہ سب رینگنے والے جانور ہيں اور ان سب کے جسم پر سخت خول ہوتا ہے۔ ان سب ميں یہ واحد مماثلت ہے۔ ان کی چند مخصوص اقسام ميں سمندری کچھوے، پیٹھ پر چمڑے کے خول والے، سنیپنگ کچھوے، تالاب کے کچھوے اور نرم شیل والے کچھوے شامل ہیں۔

نیم آبی اور آبی کچھوے
ان کا تعلق ٹیسٹوڈینس (سنگ پست نُما) فیملی سے ہے، جس میں رینگنے والے جانور بھی شامل ہیں اور ان کے جسم سخت بیرونی خول کی وجہ سے محفوظ ہوتے ہيں۔ کچھوؤں اور ٹورٹوا‏ئز کے مابین بنیادی فرق یہ ہے کہ ٹورٹوا‏ئز خاص طور پر زمین پر رہتے ہیں جبکہ زیادہ تر کچھوے پانی میں یا اس کے آس پاس رہتے ہیں۔

گوشت اور سبزی خور کچھوے
زیادہ تر کچھوے دراصل سبزی خور ہیں لیکن ان کی ایک مخصوص قسم تقریباً مکمل طور پر گوشت خور ہے۔ یہ مخصوص کچھوئے چھوٹی مچھلیوں سے لے کر پانی میں پائے جانے والے چھوٹے میملز تک کھا جاتے ہیں۔

انڈے صرف زمین پر
کچھوؤں کی تمام قسمیں ہی انڈے دیتی ہیں لیکن یہ اپنے بچوں کی پرورش کرنے والے جانور نہیں ہیں۔ کچھوؤں کی کوئی بھی نسل اپنے بچے خود نہيں پالتی۔ جب بچے انڈوں سے نکل آتے ہيں تو وہ اپنے آپ پرورش پاتے ہيں۔

کچھوے کی جنس کا تعین درجہ حرارت سے
مگرمچھوں کی طرح c بھی بارآوری کے بعد طے ہوتی ہے۔ اگر درجہ حرارت 27.7 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو تو انڈے میں سے نر کچھوا پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر انڈے کی ہيچنگ 31 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے اوپر ہو تو مادہ جنم لیتی ہے۔ جیسے جیسے سمندر گرم ہوتے جاتے ہیں، ويسے ويسے ہی زیادہ مادہ کچھوے پیدا ہوتے ہیں۔

سمت کا حیرت انگیز اندازہ
سمندری کچھوے عین اس ساحل پر واپس جانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہيں، جہاں وہ برسوں پہلے پیدا ہوئے تھے۔ بہت سے جانوروں کی طرح کچھوے بھی زمینی مقناطیسی میدان کے انفرادی خطوط کو محسوس کرتے ہوئے سمندر میں اپنے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ ساحلی خطوں کی مقناطیسی لائنوں میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو بھی پہچان لیتے ہیں اور جائے پیدائش تک پہنچ جاتے ہیں۔

انتہائی عمدہ بصارت
پانی میں کچھوؤں کے ديکھنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ وہ مختلف رنگوں کی ایک رینج دیکھ سکتے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ رنگوں کو دوسرے رنگوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ سمندری کچھوے اپنے اندرونی GPS کے ليے مشہور ہے لیکن اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ وہ پانی سے باہر زمین پر زیادہ اچھی طرح سے نہیں ديکھ پاتے۔

کئی انواع خطرے سے دو چار
لاکھوں سال تک زندہ رہنے کے بعد کچھوؤں کی سات میں سے چھ اقسام کی بقا کو انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں خطرات لاحق ہيں۔ ہر سال ہزاروں کچھو ےمچھیروں کے نیٹس میں پھنس کر مر جا تے ہيں۔ جبکہ دنیا کے کچھ حصوں میں انہیں انڈوں، گوشت اور ان کے شلز کے حصول کے لیے مار دیا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.