افغانوں کے لیے 64ملین ڈالرامریکی امداد،’طالبان کے ساتھ روابط ضروری

3

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گتریس نے افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے طالبان کے ساتھ بین الاقوامی رابطوں پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ امداد کو انسانی حقوق کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو جینوا میں افغانستان کے لیے ایک ڈونر کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گتریس نے کہا کہ ’ڈیفیکٹو حکام کے ساتھ بات چیت کیے بغیر افغانستان میں امداد مہیا کرنا ناممکن ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس وقت طالبان کے ساتھ بات چیت کرنا بہت ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان میں انسانی ضروریات طالبان کے قبضے سے پہلے ہی بہت زیادہ تھی۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کیش امداد کے استعمال کے طریقے تلاش کیے جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ افغانستان کی معیشت کو چلنے دیا جائے تاکہ اسے تباہی سے بچایا جاسکے۔
اس کانفرنس کا ٹارگٹ افغانستان کی مدد کے لیے چھ سو ملین ڈالر سے زیادہ اکھٹا کرنا تھا تاہم اًدھے سے زیادہ مقررین کے خطاب کے بعد1.1 بلین ڈالر کے وعدے کیے گئے۔
طالبان کے قبضے سے پہلے افغانستان کی جی ڈی پی کا تقریباً 40 فیصد بین الاقوامی امداد سے حاصل ہوتا تھا اور آدھی آبادی کا انحصار بین الاقوامی امداد پر تھا۔

ملک میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سردیوں کے آنے کے ساتھ امدادی اداروں نے غذا کی کمی اور حتیٰ کے بھوک و افلاس سے متعلق خبردار کیا ہے۔
افغانستان کے لیے امریکی امداد کا اعلان
امریکہ نے افغانوں کی مدد کے لیے تقریباً 64 ملین ڈالر اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کا بین الاقوامی ادارہ یو ایس ایڈ اور امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے فراہم کی گئی یہ امداد اقوام متحدہ اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
امریکہ افغانستان میں سب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والا ملک ہے۔ رواں برس امریکہ نے 330 ملین ڈالرز کے قریب امداد فراہم کی ہے۔
یو ایس ایڈ نے کہا ہے کہ امریکہ افغان عوام کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے امداد فراہم کرتا رہے گا اور کہا ہے کہ دیگر ڈونرز سے بھی افغانوں کو مدد فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.