انسانی دماغ کی ساخت :دماغ کے بارے میں 7 حیرت انگیز انکشافات

کیا آپ کے دماغ کی بتی جل سکتی ہے؟ جی ہاں آپ کے 100 بلین سیلز سے بنے ہوئے BRAIN میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ایک10 میگا واٹ کا بلب آسانی سے روشن کرسکے۔آج ہم آپ کو انسانی دماغ کی ساخت کے بارے میں ایسے ہی سات حیران کن حقائق بتانے والے ہیں ۔

69

انسانی دماغ کی ساخت :دماغ کے بارے میں 7 حیرت انگیز انکشافات

انسانی دماغ کی ساخت
انسانی دماغ کی ساخت

کیا آپ کے دماغ کی بتی جل سکتی ہے؟ جی ہاں آپ کے 100 بلین سیلز سے بنے ہوئے دماغ  میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ایک10 میگا واٹ کا بلب آسانی سے روشن کرسکے۔آج ہم آپ کو انسانی دماغ کی ساخت کے بارے میں ایسے ہی سات حیران کن حقائق بتانے والے ہیں ۔

(1)انسانی دماغ کانوں کے ذریعہ سے بھی دیکھ سکتا ہے

انسانی دماغ کی ساخت
انسانی دماغ کی ساخت

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے پہلا یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہےکہ کانوں کے ذریعہ بھی دیکھاجا سکتا ہے ۔ دماغ کا حصہ، جو عام لوگوں میں آنکھ کو کنٹرول کرتا ہے پیدائشی اندھوں میں اپنے آپ کوری وائر کرکے سننے کا کام کرتا ہے ۔یہ تو عموما دیکھنے میں آتا ہے کہ پیدائشی اندھوں کے کان بہت تیز ہوتے ہیں۔

یہ بات 2011 کی ایک تحقیق میں اندھوں اور نارمل آنکھوں والے لوگوں کے دماغ کا موازنہ کرنے سے سامنے آئی ۔

(2)انسانی دماغ 30 فیصد خوراک کھا جاتا ہے 

انسانی دماغ کی ساخت
انسانی دماغ کی ساخت

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے دوسرا یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہےکہ دماغ اگرچہ جسم کے وزن کا 3 فیصد حصہ ہوتا ہے لیکن یہ خون میں شامل ہونے والے انرجی اور غذائی اجزاء کا 20 سے 30فیصد حصہ کھا جاتا ہے۔گویا یہ ایک لالچی بچے کی طرح ہوتا ہے جو کھانا مانگتا رہتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ دماغ بہت تیز بھی ہوتا ہے یہ ایک سیکنڈ کے 10 ہزارویں حصہ میں کسی چیز کو رسپانڈ کرکے اس کے متعلق ایکشن ترتیب دے لیتا ہے۔انسانی دماغ دنیا کے کسی بھی کمپیوٹر سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ہاتھوں اور پاوؤں سے ملنے والی انفارمیشن 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دماغ تک سفر کرتی ہے ۔

(3)محبت میں انسانی دماغ میں بتی جل جاتی ہیں

دماغ کے بارے میں
دماغ کے بارے میں

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے تیسرا یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہےکہ جب کوئی انسان محبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس حالت میں لئے گئے دماغ کے سکینز light up نظر آتے ہیں ۔دماغ کی لائٹ جل جاتی ہے۔
رومینٹکlove کی حالت میں ہونے والے MRI سکینز میں dopamine کے جگہ پر واضح حرکت دیکھی جاسکتی ہے۔ڈوپامائن(dopamine)وہ نیورو ٹرانسمیٹرز ہوتے ہیں جو انسان کی خوشی کے احساس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔

(4) انسانی دماغ کا پیدائش کے بعد بھی تبدیل ہوتے رہنا

دماغ کے بارے میں
دماغ کے بارے میں

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے چوتھا یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ انسانی دماغ پیدائش کے بعد بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔arrangeہوتا رہتاہے۔اور اس کے بعض حصہ دوبارہ بن بھی سکتے ہیں ۔
دماغ کے nerve cells مستقل طور پر چینج ہوتے رہتے ہیں۔ یہ nerve cells انسانی زندگی کے پہلے سال میں ہونے والی اپنی نشونما کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں ۔بعض بہت چھوٹے بچے جن کے brain resections ہوتے ہیں، آخر کا بلکل ٹھیک ہوجاتے ہیں brain resections ایسی سرجری کو کہتے ہیں جس میں ان کے دماغ کے بعض زبان سے تعلق رکھنے والے حصوں کونکال دیا جاتا ہے ۔

(5)انسانی دماغ درد محسوس نہیں کر سکتا

انسانی دماغ کی طاقت
انسانی دماغ کی طاقت

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے پانچواں یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ انسانی دماغ بلکل بھی درد محسوس نہیں کر سکتا ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض نیوروسرجنز بے ہوش کئے بغیر مریضوں کی سرجری کررہے ہوتے ہیں کیونکہ دماغ بذات خود درد محسوس نہیں کر سکتا ۔ہاں دماغ کے ارد گرد کے مسلز اور کھال ضرور درد محسوس کر تی ہے ۔اس لئے اب کسی کو سر درد ہو تو کبھی نہ کہیے گا کہ اس کے دماغ میں درد ہے ۔

(6)  صرف 20 سے 30 سیکنڈر تک رہتی ہےShort-term memory

انسانی دماغ کا وزن
انسانی دماغ کا وزن

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے چھٹا یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہےکہ انسان کی Short-term memory صرف 20 سے 30 سیکنڈر تک رہتی ہے۔
آپ کے ساتھ اکثر یہ ہوا ہوگا کہ آپ کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں لیکن کسی وجہ سے ڈسٹرب ہو جاتے ہیں لیکن ا سکے بعد آپ بلکل بھول جاتے ہیں کہ آپ اس سے پہلے کیا کہہ رہے تھے ۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ دماغ کی چھوٹی معلومات کو ایکٹو مائنڈ میں رکھنے کی استعداد بہت کم ہوتی ہے ۔

(7) آپ کا دماغ آپ کے آباء و اجداد کے دماغ سے بہت چھوٹا ہے

انسانی دماغ کے حصے
انسانی دماغ کے حصے

دماغ کے بارے میں ان 7 حیران کن حقائق میں سے ساتواں یہ ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت کچھ ایسی ہےکہ آپ کادماغ آپ کے آباو اجداد کے دماغو ں سے بہت چھوٹا ہے ۔ یہ بات بہت عجیب اور ڈراونی لگتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔
انسانی فوصلز کے سائنسی مطالعہ سے یہ حقیقت آشکارہو جاتی ہے کہ ہمارے دماغ سکڑ رہے ہیں ۔ ہر انسانی آبادی والے براعظم سے ملنے والے ثبوت اس بات کو ثابت کرتے ہیں ۔
بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دماغ کا سکڑنا اس وجہ سے ہے کہ ہمارا جسم بھی پچھلے 10 ہزار سالوں سے آج تک سکڑتا چلا جارہا ہے ۔سو جسم کے چھوٹا ہونے سے دماغ بھی چھوٹا ہوتا جارہا ہے۔یاد رہے کہ یہ بات صرف فزیکلی چھوٹاہونے کی ہے نہ کہ دماغی صلاحیت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Optimized with PageSpeed Ninja