پراسرار کہانیاں

کچھ کہانیاں جو ذہن کو تادیر چبھتی رہتی ہیں

پراسرار کہانیاں

ایک آسیب زدہ انسان

10 سال پہلے کی بات ہے ہمارے آفس میں ایک آدمی کسی کام سے آیا آفس میں باس نہیں تھے تو وہ باہر بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا ۔ میں اپنے آفس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں نائب قاصد میرے پاس آیا اور اس نے مجھے باس کے آفس کے باہر بیٹھے اس آدمی کے بارے میں بتایا تو میں اٹھ کر اس آدمی کے پاس گیا اور میں نے اس شخص سے پوچھا سر آپ کون ہیں اور آپ کو باس سے کیا کام ہے مجھے بتائیں۔ تو وہ شخص بولا مجھے کاظم صاحب (یعنی میرے باس) سے کوئی ضروری بات کرنی ہے ۔ میں نے کہا باس تو سیکڑیٹ گئے ہیں میٹنگ میں وہ تو بہت دیر کے بعد آئیں گے ۔ تو وہ شخص بولا چلیں کوئی بات نہیں میں ان کا انتظار کرلوں گا ۔ میں اس شخص سے کہا چلیں ٹھیک ہے جیسے آپکی مرضی آپ کچھ لیں گے چائے پانی وغیرہ تو وہ شخص بولا میں بہت دور سے آیا ہوں اگر آپ چائے پلا دیں گے تو بہت مہربانی ہوگی میں نے کہا ارے اس میں مہربانی والی کیا بات ہے اس کے بعد میں نائب قاصد کو آواز دی اور اسے اس شخص کو چائے پلانے کو کہا اتنے میں اس شخص نے مجھ سے پوچھا آپ کون ہیں میں نے مسکراتے ہوئے کہا جی میں کاظم صاحب کا خادم ہوں ان کا پرسنل اسسٹنٹ تو اس شخص نے کہا اچھا تو کیا آپ میرا میسج کاظم صاحب کو دے دیں گے جب بھی وہ آئیں گے تو۔ میں نے کہا جی ضرور میرا تو کام ہی یہی ہے آپ مجھے اپنا نام اور فون نمبر دے دیں اور ساتھ میں اپنا میسج دے دیں انشاء اللہ جیسے ہی باس آجائیں گے تو میں آپ کا میسج دے دونگا انھیں ۔ وہ شخص بولا میرا نام عارف ہے اور میں (بورے والہ) کا رہنے والا ہوں اور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہارون الرشید صاحب کے ریفرنس سے آپ کے باس کے پاس آیا ہوں قریباً دو سال پہلے جب کاظم صاحب بورے والہ آئے تھے تو ہارون الرشید صاحب نے مجھے ان سے ملوایا تھا اس وقت میں نے کاظم صاحب سے اپنے بھانجے مطلوب کی نوکری کے لیئے بات کی تھی تو کاظم صاحب نے کہا تھا کہ جیسے ہی نوکریاں نکلیں گی تو آپ کو ضرور بتا دونگا اور مناسب ہوا تو آپ کے بیٹے کو اپنے آفس میں رکھ لوں گا اس وجہ سے گزشتہ رات ہارون الرشید صاحب نے مجھے فون کر کے بتایا تھا کہ نوکریاں نکلیں ہیں تو آپ کاظم صاحب سے جا کر مل لیں اسی وجہ سے میں آج پہلی فرست میں ہی کاظم صاحب سے ملنے آگیا ہوں ۔ میں نے کہا جی نوکریاں تو نکلی ہیں پر وہ( ڈاکیا ) اور (چوکیدار) کی نکلی ہیں تو عارف نے کہا جی کوئی بات نہیں بس میں چاہتا ہوں میرا بھانجا نوکری پر لگ جائے پھر چاہے نوکری جیسے بھی ہو وہ کر لے گا بیچارہ یتیم مسکین ہے ۔ عارف کی یہ بات سن کر میں نے کہا آپ فکر نہیں کریں اگر ایسی بات ہے تو میں خود بھی باس سے سفارش کر دوں گا ۔ تو عارف نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا بیٹا تمہارا بہت بہت شکریہ اس کے بعد عارف نے چائے پی اور بولا بیٹا آپ میرا موبائل نمبر لکھ لو اور میں ابھی کسی رشتے دار کے گھر جا رہا ہوں وہ یہاں پاس میں ہی رہتے ہیں اور اگر اس دوران کاظم صاحب آجائیں تو تم مجھے فون کر کے بلا لو گے ؟؟ میں نے کہا جی ضرور آپ اطمینان رکھیں اس کے بعد میں نے عارف کا موبائل نمبر لکھا اور عارف سلام دعا کر کے چلا گیا اور میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا اور تقریباً چار گھنٹے کے بعد جب باس میٹنگ سے واپس آئے تو میں نے ان کو عارف کا میسج دیا تو باس نے کہا ارے ہاں میں تو اس شخص کو بہت اچھے سے جانتا ہوں وہ ہارون الرشید صاحب کے جاننے والوں میں سے ایک ہے اب وہ کہاں ہے ؟؟ میں نے کہا جی وہ یہی پاس میں کسی رشتے دار کے گھر ہیں اور وہ آپ سے مل کر ہی بورے والہ واپس جائیں گے باس نے کہا تو ٹھیک ہے بلوا لو انہیں ۔ میں نے کہا سر وہ ان کا ایک بھانجا ہے اور وہ بنا ماں باپ کے ہے آپ کسیے بھی کر کے اس کو نوکری دلوا دیں بیچارا دعائیں دے گا آپ کو ۔ باس نے کہا ہاں میں جانتا ہوں اس کے بھانجے کو بھی اس پر کسی چیزوں کا اثر ہے اب پتا نہیں اس بات میں کتنی صداقت ہے تم ایسا کرو عارف کو بلوا لو میں دیکھتا ہوں کیا بن سکتا ہے ان کے لیئے ۔ میں باس کی بات سن کر تھوڑا حیران ہو گیا اور وہیں کھڑا ہو کر اس لڑکے کے بارے میں سوچنے لگا کہ کیا واقعی میں عارف کے بھانجے پر کوئی چیزوں کا اثر ہے ۔ اتنے باس نے کہا ارے اب کھڑے کھڑے کیا سوچ رہے ہو بلا لو اس کو میں نے کہیں جانا بھی ہے ۔ میں چونک کر بولا کیا ہوا سر باس نے تھوڑا تلخ لہجے میں کہا یار میں کہہ رہا ہوں عارف کو بلا لو میں نے جانا بھی ہے تم اونچا سنتے ہو کیا ؟ میں نے کہا جی جی سوری سر میں بلاتا ہوں انہیں ۔ یہ کہتے ہوئے میں باس کے روم سے باہر آیا اور عارف کو فون کر کے آنے کو کہا تو عارف نے کہا میں بس کچھ ہی دیر میں پہنچ رہا ہوں۔ اس کے بعد میں پھر سے اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا اور کچھ دیر کے بعد عارف پھر سے آفس آیا اور اس نے آتے ہی مجھ سے پوچھا بیٹا کیا کاظم صاحب فری ہیں ؟ میں نے کہا جی آپ جلدی جائیں وہ آپ ہی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ عارف نے کہا جی بیٹا میں جاتا ہوں ۔ یہ کہہ کر عارف باس کے روم میں چلا گیا اور میں واپس اپنا کام کرنے لگا اتنے میں مجھے ایک فائیل کے سلسلے میں باس کے روم میں جانا پڑا میں فائیل لے کر باس کے پاس گیا تو دیکھا کہ عارف باس کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا اتنے میں باس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا کیا ہوا میں نے کہا سر یہ ایک فائیل ہے تھوڑا ارجنٹ تھی اس وجہ سے میں نے سوچا آپ کے جانے سے پہلے ایک بار آپ کو دیکھا دوں باس نے کہا اچھا لاؤ دیکھاؤ فائیل مجھے ۔ میں نے فائیل باس کو دی اور باس نے کہا ٹھیک ہے تم بیٹھو میں دیکھتا ہوں میں باس کے سامنے صوفہ پر بیٹھ گیا اور باس نے فائیل اپنے ٹیبل پر رکھ لی اور عارف سے کہنے لگے اچھا عارف یہ تو بتاؤ کہ اس سے پہلے آپ کا بھانجا کہاں کام کرتا تھا عارف نے اچانک سے ڈرے ہوئے انداز میں پلٹ کر میری طرف دیکھا تو باس نے کہا ارے عارف کوئی بات نہیں وہ اپنا ہی بندا ہے میرا پی اے ہے تمہیں اس سے جھجھکنے کی ضرورت نہیں تم اپنی بات جاری رکھو ۔ تو عارف نے کہا سر بات دراصل یہ ہے کہ میرا بھانجا جب سے اس کے ماں باپ کا انتقال ہوا ہے تب سے وہ اکیلا رہتا ہے اور اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اور اس سے پہلے وہ بہت جگہ کام کر چکا ہے لیکن دو چار ماہ کے بعد اسے کام سے نکال دیا جاتا ہے باس نے کہا ارے ایسا کیوں ہے عارف نے کہا کہ وہ جہاں بھی کام کرتا ہے وہاں سے اسے یہ کہہ کر نکال دیتے ہیں کہ یہ

کوئی ہوائی چیز ہے جبکھتا ہوں کہ وہ صرف اکیلا رہنے کی وجہ سے ایسا ہے ۔ باس نے کہا مطلوب کی عمر کیا ہے ؟؟ عارف نے کہا جی اس کی عمر تو 36 سال ہے ۔ باس نے حیرانی سے پوچھا کیا 36 سال کا ہے ؟؟ عارف نے کہا جی سر ۔ باس نے کہا تو اس کی شادی کیوں نہیں کر دیتے آپ لوگ ؟ عارف نے کہا سر وہ شادی نہیں کرتا ہم نے تو بہت بار کوشش کی ہے پر وہ کہتا ہے میری شادی ہو چکی ہے اور اب میں نے شادی نہیں کرنی جبکہ میں تو اسے تب سے جانتا ہوں جب وہ پیدا ہوا تھا تب سے آج تک اس کی شادی تو کسی سے نہیں ہوئی لیکن وہ ایک ہی بات کرتا ہے کہ میری شادی ہو چکی ہے ۔ باس نے کہا کہ آخر وہ ایسا کیوں کہتا ہے ۔ عارف نے کہا یہی تو پتا نہیں ہے بس وہ گھر میں اکیلا رہتا ہے اور ایک دو بار میں نے اچانک اس کے گھر جا کر دیکھا تو وہ ایک کرسی کے سامنے بیٹھ کر کسی سے باتیں کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن مطلوب کے سوا گھر میں مجھے کوئی نظر نہیں آتا اور جیسے ہی وہ مجھے دیکھتا ہے تو بولنے لگ جاتا ہے کہ ماموں آپ چلے جائیں میں کسی کے ساتھ مصروف ہوں ۔ باس نے کہا یار میری بات کا برا مت ماننا کہیں مطلوب دماغی مریض تو نہیں ہے ؟؟ عارف نے کہا نہیں سر ڈاکٹر وغیرہ کہتے ہیں کہ وہ دماغی طور پر پوری طرح ٹھیک ہے ہم لوگوں نے اس کو بہت جگہ چیک کروایا ہے پر کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا بس سب ڈاکٹر بولتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہے اور یہ پاگل نہیں ہے ۔ باس نے کہا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ واقعی میں اس پر کسی چیز کا اثر ہے میرا مطلب ہے کہ کوئی واقعی میں ہے جو صرف اس کو ہی نظر آتا ہو ؟؟ عارف نے کہا جی یہ تو میں نہیں جانتا پر مطلوب عام طور پر تو بالکل ٹھیک ہی نظر آتا ہے اور وہ ایک کمال کا پینٹر بھی ہے میں نے اس کی بہت سی پینٹنگز دیکھی ہیں جو کہ اس نے خود بنا کر گھر میں لگائی ہوئی ہیں ۔ باس پین اپنے دانتوں میں دبا کر عارف کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے اور پھر بولے ۔ دیکھو عارف مطلوب کہ بارے میں جتنا تم نے مجھے بتایا ہے اسے سننے کے بعد میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اسے صرف پیار کی کمی ہے اور اگر اس کی شادی ہو جائے تو شاید وہ بدل جائے گا ۔ ویسے اس کے ماں باپ کے انتقال کو کتنا عرصہ ہو چکا ہے ۔ عارف نے کہا سر اس کا باپ تو جب مطلوب بارہ سال کا تھا تب ہارٹ اٹیک سے فوت ہو چکا تھا اور اس کے چار سال بعد اس کی ماں بھی فوت ہو گئی تھی جو کہ پہلے ہی بیمار تھی اس کے دل میں سراخ تھا پر مطلوب کہتا ہے کہ انہوں نے کسی ہوائی چیز کو دیکھا تھا اور اس ہوائی چیز نے اس کی ماں کو مارا ہے۔ لیکن ڈاکٹر کہتے تھے کہ اس کی موت بھی ہارٹ اٹیک سے ہوئی تھی ۔ تو جب مطلوب سولہ سال کا تھا تب سے وہ اکیلا ہی گھر میں رہتا ہے اور اکیلے ہی اس نے گھر چلانا شروع کر دیا تھا اور وہ گھر میں کھانا پکانا بھی خود ہی کر لیتا ہے پر پتا نہیں وہ سارا دن پورے گھر میں اندھیرا کیوں کر کے رکھتا ہے اس کے اعلاوہ اس نے گھر میں ہی کوئی سائونڈ سسٹم لگا کر سنیما سا بنا رکھا ہے لیکن وہ اپنے اعلاوہ گھر میں کسی کو برداشت نہیں کرتا ۔ ہم نے بہت بار اس کو بولا ہے کہ ہمارے پاس آکر رہو پر وہ مانتا ہی نہیں وہ بس یہی بولتا ہے کہ مجھے اکیلا رہنا اچھا لگتا ہے بس آپ میرے لیئے کوئی نوکری ڈھونڈ کر دے دو۔ تحریر دیمی ولس نے کہا ہاں مجھے ہارون الرشید صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی بتایا تھا مطلوب کے بارے میں کہ اس پر کوئی چیزوں کا سایہ ہے ۔ عارف نے مسکراتے ہوئے کہا نہیں سر مجھے ایسا ی باس نے کہا ارے تم مان کیوں نہیں لیتے جبک تم ود بتا رہے ہو کہ اس کو چار چھ ماہ بعد کام سے یہ کہہ کر کال دیتے ہیں کہ وہ کوئی ہوائی چیز ہے آخر کچھ تو وہ ایسا کرتا ہو گا جس کی وجہ سے لوگ ایسا بولتے ہیں اس کے بارے میں ۔ عارف نے کہا سر لوگوں کا کیا ہے لوگ تو کچھ بھی بول دیتے ہیں ۔ میں تو جب بھی اس بیچارے کو دیکھتا ہوں تو مجھے صرف ایک یتیم مسکین بچہ ہی نظر آتا ہے اور پھر وہ میری بہن کی نشانی بھی ہے جو کہ اس مرحومہ نے اس دنیا سے جاتے ہوئے میرے حوالے کر کے بولا تھا کہ اس کا خیال رکھنا اس بیچارے کا اب اس دنیا میں کوئی نہیں ہو گا اور یہ بات کرتے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی ۔ عارف یہ بات بتاتے ہوئے باس کے سامنے رونے لگا ۔ باس نے گھبراتے ہوئے کہا ارے عارف سمبھالو خود کو اور دیکھو تم رو مت میں آج سے ہی مطلوب کو نوکری پر رکھتا ہوں عارف نے روتے ہوئے ہی باس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا سر آپ کی بڑی مہربانی ۔ تو باس جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر عارف کے پاس آئے تو عارف بھی کھڑا ہو گیا تو باس نے عارف کو گلے سے لگا لیا اور بولے عارف اب تم مطلوب کی فکر چھوڑ دو ۔ عارف نے کہا سر بس اگر کام کرتے ہوئے اس سے کوئی غلطی ہو جایا کرے گی تو اس کو یتیم مسکین سمجھ کر معاف کر دیجیۓ گا پر اسے کام سے مت نکالیئے گا ۔ باس نے کہا ارے اب سے مطلوب یتیم مسکین نہیں ہے کیونکہ اب سے وہ میرا بیٹا ہے ۔ باس کی یہ بات سن کر عارف حیرت سے باس کی طرف دیکھ کر روتے ہوئے ہی مسکرانے لگا اور بولا سر کیا آپ اسے واقعی میں اپنا بیٹا بنا کر رکھیں گے تو باس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا ہاں بھئی کیوں نہیں آخر اس کو بھی تو پیار ملنا چائیے نا اور شاید ایسا کرنے سے وہ ٹھیک ہو جائے اور پھر میں خود اس کی شادی کرواؤں گا عارف نے پھر سے اپنے ہاتھ جوڑ کر باس کو شکریہ کہنے کی کوشش کی پر باس نے عارف کہ ہاتھ پکڑ لیئے اور بولے ارے عارف تم مجھے بار بار گناہگار کیوں کر رہے ہو میں بھی دو بیٹوں کا باپ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ جوان اولاد کے لیئے ماں باپ کے کیا فرائض ہوتے ہیں اور مجھے آج تمہیں دیکھ کر فخر ہوتا ہے کہ آج کے دور میں بھی تم جیسے ماموں ہیں جو کہ اپنے بھانجے کے اچھے مستقبل کہ لیئے باپ سے بڑھ کر جدوجہد کر رہے ہیں ۔ عارف نے کہا پر سر آپ واقعی میں فرشتہ ہیں باس نے مسکراتے ہوئے کہا ارے نہیں نہیں میں صرف ایک عدنہ سا اور گناہگار شخص ہوں ۔ پھر عارف میری طرف دیکھنے لگا میں بھی عارف کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا تو باس نے عارف کو کہا یہ بھی میرا بیٹا ہی ہے اور یہ پندرہ سال سے میرے ساتھ کام کر رہا ہے پر یہ کبھی کبھی بھیڑئے کی طرح مجھے گھورتا ہے ایسا لگ ہے جیسے مجھے کھا جائے گا لیکن یہ بہت اچھا بیٹا ہے کبھی مجھ سے بدتمیزی نہیں کرتا پھر چاہیے میں اس کو کتنا بھی ڈانٹ لوں پر یہ آگے مسکرا دیتا ہے ۔ عارف نے کہا جی سر میں اس سے آج ملا تھا ماشاءاللہ بہت اچھا بچہ ہے۔ تحریر دیمی ولف ۔ عارف نے مجھ سے کہا بیٹا کیا نام ہے تمہارا میں نے کہا جی میرا نام دیمی ہے تو اتنے میں باس مسکراتے ہوئے بولے ارے پورا نام بتاؤ ذرا انہیں جو یہاں کے لوگ تمہیں بولتے ہیں تو عارف نے کہا سر کیا بولتے ہیں تو باس نے میرے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا اسے (دیمی ولف) بولتے ہیں تو عارف نے حیران ہو کر کہا یہ کیسا نام ہے سر؟ باس ہنسنے لگے اور بولے یہ تو اس کو پتا ہے یاں اس کے ساتھ یہاں کام کرنے والے لوگوں کو ہی پتا ہے پر یہ اس بارے میں مجھے کچھ نہیں بتاتا میں باس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا سر کچھ ہے ہی نہیں بتانے لائق تو میں کیا بتاؤں آپ کو ۔ باس نے مسکراتے ہوئے کہا چلو بھئی تمہاری مرضی ہے برخوردار پر میں پتا لگا ہی لوں گا ایک دن میں نے جی ٹھیک ہے سر ۔ اس کے بعد باس نے عارف کو کہا مطلوب کو میں دیمی کے حوالے کروں گا اور مجھے امید ہے کہ یہ مطلوب کو آفس کے طور طریقے جلدی ہی سمجھا دے گا اور اب تم گھر جاؤ اور کل اس کو آفس بھیج دینا باقی باتیں میں اس سے خود کر لوں گا جب وہ آفس آئے گا ۔ اس کے بعد عارف نے باس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر چوما اور کہا شکریہ سر اس کے بعد عارف نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا شکریہ بیٹا میں نے ارے نہیں نہیں انکل شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کا کام ہو گیا میرے لیئے اتنا ہی کافی ہے ۔ تو عارف مسکراتا ہوا خوشی خوشی سے گھر چلا گیا اور پھر باس نے مجھے کہا دیمی بیٹا تم نے مطلوب کے بارے میں سب سنا ہے تو کوشش کرنا کہ ذرا اس کے ساتھ پیار سے ہی پیش آنا ۔ میں نے کہا سر اپ فکر نہ کریں ایسا ہی ہو گا ۔ پھر باس نے وہ فائیل دیکھی جو میں لے کر گیا تھا اس کے بعد باس آفس سے چلے گئے اور اگلے دن صبح جب میں آفس پہنچا تو وہاں ایک عجیب سا شخص پہلے سے ہی نائب قاصد کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور نائب قاصد میری طرف دیکھتے ہوئے اسے کچھ میرے بارے میں بتا رہا تھا اس شخص کے بڑے بڑے سے بال تھے اور بہت ہی سٹائلش کپڑے پہنے ہوئے تھے میں اس کے پاس گیا تو نائب قاصد کے ساتھ اس نے بھی مجھے سلام کیا میں نے سلام کا جواب دیا اور پھر نائب قاصد نے اس شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بھائی جان باس سے ملنے آئے ہیں میں نے کہا سر کیا نام ہے آپ کا ؟؟ تو اس شخص نے کہا میرا نام مطلوب ہے میں فوراً چونکا اور اس کو غور سے دیکھنے لگا کیونکہ جیسا میں نے مطلوب کے بارے میں سنا تھا وہ ویسا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ یہ تو کوئی فلمی ایکٹر کی طرح لگ رہا تھا اس نے ہاتھ میں سٹائلش گھڑی پہنی ہوئی تھی اور بہت کمال کے سٹائلش شوز پہنے ہوئے تھے ۔اتنے میں مطلوب نے مجھے کہا سر کیا ہوا ؟؟ میں نے کہا کچھ نہیں اور دیکھیں آپ مجھ سے بہت بڑے ہیں اس وجہ سے آپ مجھے سر نہ کہیں ۔ مطلوب نے نائب قاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا مجھے تو ان بھائی صاحب نے کہا ہے کہ آپ بھی افسر ہیں اس وجہ سے میں تو آپ کو سر ہی بلاؤں گا نا ؟؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ارے نہیں نہیں میں کوئی افسر نہیں ہوں میں تو بس باس کا پرسنل اسسٹنٹ ہوں اور آپ مجھے دیمی ہی بلا سکتے ہیں تو مطلوب نے کہا جی ٹھیک ہے دیمی بھائی۔ میں نے کہا دیکھو مطلوب بھائی باس کو ابھی بہت وقت لگے گا آنے میں تب تک آپ میرے ساتھ آئیں اور میں آپ کو آفس کے باقی لوگوں سے ملواتا ہوں مطلوب نے کہا اس کا مطلب ہے میں آج سے ہی کام شروع کر لونگا میں نے جی آج آپ کا پہلا دن ہے آفس میں مطلوب نے کہا پر دیمی بھائی پہلے باس سے بات نا کر لیں پتا نہیں وہ مجھے رکھیں گے بھی کہ نہیں ؟ میں نے کہا ارے ایسی بات نہیں ہے باس نے گزشتہ روز سے ہی آپ کو کام پر رکھ لیا تھا جب آپ کے ماموں عارف صاحب آئے تھے اور باس نے مجھے بولا تھا کہ میں آپ کو آفس کے بارے میں سب کچھ سمجھا دوں ۔ تو مطلوب نے خوش ہوتے ہوئے کہا اچھا اچھا ٹھیک ہے پھر اب آپ مجھے آفس کے بارے میں بتائیں۔ میں نے مطلوب سے کہا مطلوب بھائی آپ کی تعلیم کتنی ہے تو مطلوب نے افسردہ سا ہو کر کہا میری تعلیم انڈر میٹرک ہے کیونکہ کہ میں دسویں جماعت میں فیل ہو گیا تھا اس کے بعد کبھی پڑھائی نہیں کی ۔ میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں جتنی بھی ہے بہت ہے اس کے بعد میں نے مطلوب کو باری باری آفس میں سب سے ملوایا اور سب سے مطلوب کا تعارف کروایا اور آفس کے سب لوگوں نے مطلوب کا اچھے سے ویلکم کیا اس کے بعد میں نے مطلوب کو کہا مطلوب بھائی آپ کو کیسا کام پسند ہے مطلوب نے کہا میں کیا بتا سکتا ہوں آپ جو کام مناسب سمجھیں مجھے وہ دے دیں ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے پر ہمیں پہلے باس سے ملنا ہو گا تاکہ وہ بھی تم سے مل لیں پھر اس کے بعد ڈیسائیڈ کریں گے کہ آپ کو کونسا کام دیا جائے جو کہ آپ کے لیئے آسان ہو اور آپ کو پسند بھی ہو ۔ مطلوب نے کہا واہ کیا بات ہے مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے یہاں کام کرنے میں مزا آئے گا میں نے کہا ہاں ضرور کیونکہ ہمارے باس بہت اچھے انسان ہیں اور انہوں نے ہی بولا تھا کہ آپ کو کوئی مشکل کام نہیں دینا جو کہ آپ کو کرنے میں دقت پیش آئے ۔ مطلوب نے کہا تب تو مجھے بہت بے صبری سے ان کا انتظار رہے ہے پتا نہیں وہ فرشتہ کب آئے گا ۔ مطلوب کی بات سن کر میں مسکرانے لگا ۔ مطلوب ہے کہا کیا ہوا بھائی مسکرا کیوں رہے ہو میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا ۔ میں نے کہا ارے نہیں نہیں گزشتہ روز آپ کے ماموں بھی یہی بات کر رہے تھے باس کے بارے میں تو میں اس وجہ سے مسکرا رہا تھا ۔ اتنے میں کسی نے آواز لگائی کہ باس آگئے ہیں ۔ میں نے مطلوب ہے سے کہا لو بھائی آگے آپ کے فرشتے جاؤ مل لو ۔ تو مطلوب نے کہا بھائی آپ بھی چلو میرے ساتھ مجھے ملوا دو ان سے ۔ میں نے کہا اچھا چلو پھر۔ اس کے بعد میں مطلوب کو لے کر باس کے پاس گیا اور باس سے مطلوب کا تعارف کروایا تو باس اپنی سیٹ سے اٹھ کر مطلوب کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے مطلوب کے کندھوں کو پکڑ کے بولے بیٹا آج کے بعد اسے اپنا ہی آفس سمجھو اور مجھے اپنے بابا کی طرح سمجھو اور کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت پڑے تو تم مجھے بلا جھجک کہہ سکتے ہو ۔ مطلوب کی آنکھوں میں آنسوں آگئے باس نے کہا ارے بیٹا رو کیوں رہے ہو کیا ہوا ؟ مطلوب نے کہا سر ماموں کے سوا آج تک مجھ سے کسی نے اتنے پیار سے بات نہیں کی اس سے پہلے میں جہاں بھی کام کرنے جاتا تھا لوگ مجھے اوے توے کر کے بلاتے تھے اور مجھے پاگل اور پتا نہیں کیا کیا بلاتے تھے ۔ باس نے مسکراتے ہوئے کہا ارے بیٹا ان لوگوں کو تمہاری قدر نہیں تھی اس وجہ سے وہ شاید ایسا بولتے ہونگے پر اب تم سہی جگہ پر آگئے ہو پھر باس نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مطلوب سے کہا دیمی سے تو مل ہی چکے ہو یہ بھی تمہاری طرح میرا بیٹا ہی ہے اور میرا پرسنل اسسٹنٹ بھی ہے یہ تمہیں آفس کے کام کے بارے میں بتا دے گا اب تم جاؤ اور آج سے اللّٰہ کا نام لے کر کام شروع کرو باقی اللّٰہ کرم کرے گا ۔ اس کے بعد میں مطلوب کو لے کر باس کے روم سے باہر جانے لگا تو باس نے کہا دیمی تم روکو مطلوب نے بھی مڑ کر باس کی طرف دیکھا تو باس نے مطلوب سے کہا بیٹا آپ جاؤ یہ ابھی آتا ہے تو مطلوب نے کہا جی سر اور باہر چلا گیا پھر باس نے مجھ سے کہا بیٹا مطلوب کا خاص خیال رکھنا مجھے لگتا ہے جیسے ہم لوگ اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ میں نے کہا جی بلکل سر ۔ باس نے کہا تو ٹھیک ہے اب تم جاؤ اور اسے کام کے بارے میں سمجھا دو ویسے مطلوب کی ایجوکیشن کے بارے میں کچھ پتا چلا ؟؟ میں نے کہا جی سر انڈر میٹرک ہے باس نے کہا اوکے اوکے کوئی بات نہیں۔ پھر میں نے کہا سر مطلوب کو کیا کام دوں ؟؟ باس نے کہا یار دیکھ لو خود ہی پر جو بھی کام دینا وہ مطلوب کی خواہش کے مطابق ہی دینا جسے وہ آرام سے خوشی خوشی کر لے ۔ میں نے کہا جی ٹھیک ہے سر ۔ اس کے بعد میں باس سے اجازت لے کر مطلوب کے پاس آگیا اور میں نے مطلوب سے کہا مطلوب بھائی آپ بائیک چلا لیتے ہو ؟ مطلوب نے کہا جی جی بہت اچھے سے چلا لیتا ہوں پر میرے پاس بائیک نہیں ہے بس کبھی کبھی ماموں کی بائیک لے کر چلا لیتا ہوں ۔ تو میں نے مطلوب سے کہا آپ ایسا کرو کہ میں آپ کو جو فائیلس دیا کروں گا وہ آپ دوسرے آفس میں پہنچا دیا کرنا جہاں کا بھی اڈریس فائیل پر لکھا ہو گا آپ وہ فائیل اس آفس میں دے آیا کرنا باہر آفس کی بائیک کھڑی ہے۔ مطلوب نے کہا جی جی یہ کام میرے لیئے بہت اچھا رہے گا کیونکہ میں ایسا ہی کام چاہتا ہوں کہ جس میں تھوڑا بہت گھومتا بھی رہوں اور کام بھی ہوتا رہے۔ پھر میں نے مسکراتے ہوئے ایک ڈاک لے جانے والے بندے شاہ نواز کو آواز دی اور کہا یار یہ مطلوب بھائی ہیں اور آج سے ڈاک کا کام یہ کیا کریں گے بائیک کی چابی ان کو دے دو ۔ شاہ نواز حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگا ۔ میں نے شاہ نواز سے کہا یار آپ ٹینشن نہ لیں آپ کو یہاں آفس میں ہی کوئی کام دیتا ہوں تو پھر شاہ نواز مسکرانے لگا اور بائیک کی چابی مطلوب کو دے دی ۔ پھر میں نے کچھ فائیلیں مطلوب کو دی اور اس کو کچھ اڈریس بھی دیئے اور مطلوب کو ڈاک پر روانہ کر دیا ۔ پھر کچھ دیر کے بعد مطلوب تمام فائیلیں دے کر آگیا۔ تحریر دیمی ولف ۔ میں نے کہا جی مطلوب بھائی کیسا لگا کام مطلوب نے کہا دیمی بھائی بہت ہی اچھا اور آسان کام ہے۔ میں نے کہا گڈ اس کا مطلب کہ آج کے بعد آپ یہی کام کرنا پسند کرو گے مطلوب نے کہا جی جی مجھے یہ پسند ہے ۔ میں نے کہا اچھا تو آپ یہ بتاؤ آپ رہتے کہاں ہو مطلوب نے کہا جی میں نشتر کالونی کے پاس رہتا ہوں۔ میں نے کہا ارے وہ تو یہاں سے بہت دور ہے تو تم یہاں کیسے آئے تھے صبح مطلوب نے کہا تین بار بس بدلی تھی یہاں تک آنے کے لیئے ۔ میں نے کہا تو ٹھیک ہے یہ جو ڈاک والی بائیک ہے تم گھر جاتے ہوئے ساتھ لے جایا کرنا اور صبح اسی پر آفس آجایا کرنا ایسا سمجھ لو کہ یہ بائیک آج سے پوری طرح تمہارے اختیار میں ہے مطلوب نے یہ بات سنتے ہی خوشی سے مجھے گلے لگا لیا اور کہنے لگا بھائی بہت بہت شکریہ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا ۔ میں نے خود کو مطلوب سے دور کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ مطلوب کے کاندھوں پر رکھتے ہوئے کہا ارے مطلوب بھائی اس میں احسان والی کونسی بات ہے یہ بائیک آفس میں ہی کھڑی رہتی ہے کیونکہ یہاں جتنے لوگ کام کرتے ہیں سب اپنی اپنی گاڑیوں یا بائیکوں پر آتے ہیں تو اس وجہ سے یہ بائیک ڈاک دینے کے بعد یہاں آفس میں ہی کھڑی رہتی ہے تو اگر یہ آپ کے کام آجائے گی تو اس کیا حرج ہے اور اس کا تو پیٹرول بھی آفس کے کھاتے میں آتا ہے اس طرح تمہیں پٹرول بھی ڈلوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور تم آسانی سے گھر سے آفس آیا جایا کرو گے ۔ مطلوب نے تھوڑا سا اداس ہو کر پوچھا دیمی بھائی کیا باس مجھے بائیک لے جانے دیں گے ؟؟ میں نے کہا ارے انہوں نے ہی مجھ سے بولا ہے کہ آپ کے لیئے جتنی آسانی ہو میں اتنی ہی کروں ۔ تو مطلوب پھر سے مسکراتے ہوئے بولا دیمی بھائی باس واقعی میں ایک فرشتہ ہیں میں نے بھی مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا ۔ پھر اس کے بعد میں نے مطلوب سے کہا اچھا تو اب آج کی ڈاک کا کام ختم ہو چکا ہے اگر اب تم گھر جانا چاہتے ہو تو تم جا سکتے ہو ۔ مطلوب نے حیرانی سے کہا کیا اتنی جلدی ؟؟ میں نے کہا ہاں تم نے آج اپنے حصے کا کام کر لیا ہے اور اب باقی کی ڈاک کل جائے گی ابھی ہم یہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ اتنے میں اچانک باس آگئے اور مسکراتے ہوئے بولے ارے بھئی کیا باتیں ہورہی ہیں میرے دونوں بیٹوں میں ؟؟ میں نے کہا سر کچھ نہیں بس میں مطلوب سے کہہ رہا تھا کہ اگر گھر جانا چاہتے ہو تو جا سکتے ہو اس نے آج کی تمام ڈاک نمٹا دی ہے تو باس نے مطلوب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اچھا تو برخوردار ڈاک کے کام پر لگ گئے ہیں مطلوب نے کہا جی سر اور مجھے یہ کام پسند ہے تو صاحب نے کہا ویری گڈ اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ویلڈن دیمی اس سے بہتر کوئی کام نہیں ہوسکتا تھا مطلوب کے لیئے اور مجھے سن کر اچھا لگا کہ اس کو کام پسند آیا ۔ مطلوب نے کہا سر آپ کا بہت بہت شکریہ آپ میرے لیئے کسی فرشتے سے کم نہیں باس نے کہا ارے نہیں بیٹا میں صرف وہی کر رہا ہوں جو کہ ایک باپ کو اپنی اولاد کے لیئے کرنا چائیے اور یہ سب اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں لکھا ہے جو کہ تمہیں مل رہا ہے اور ہاں اگر شکریہ ادا کرنا ہی ہے تو نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرو کیونکہ وہی ہے جو سب کا خیال رکھتا ہے ورنہ انسان تو کسی قابل ہی نہیں ۔ یہ کہہ کر باس نے مجھے کہا بیٹا اب میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کے لیئے جا رہا ہوں اس دوران کوئی ارجنٹ کام آئے تو دیکھ لینا اور میری ٹیبل پر کچھ ہے وہ مطلوب کو دے دینا ۔ میں نے جی سر اس کے باس نے مطلوب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا بیٹا اب تمہاری چھٹی ہو چکی ہے اگر گھر جانا چاہتے ہو تو جا سکتے ہو ۔ مطلوب نے کہا جی سر شکریہ ۔ اس کے بعد باس چلے گئے اور مطلوب نے کہا ٹھیک ہے دیمی بھائی آپ کا بھی بہت بہت شکریہ اب میں گھر جانے لگا ہوں میں نے کہا روکو اور میں جلدی سے باس کے روم میں گیا تو وہاں ٹیبل پر کچھ پیسے پڑے ہوئے تھے جو کہ قریباً پانچ ہزار تھے میں نے وہ پیسے اٹھائے اور خاموشی سے لا کر مطلوب کے حوالے کر دیئے تو مطلوب حیرانی سے پوچھنے لگا یہ پیسے کس لیئے ؟؟ میں نے کہا یہ باس نے تمہیں دیئے ہیں تھوڑے بہت جیب خرچ کے لیئے ۔ مطلوب نے کہا پر یہ پیسے میں کیسے لے سکتا ہوں میں نے تو ابھی کام بھی اتنا نہیں کیا ؟ میں نے کہا ارے مطلوب بھائی یہ پیسے تمہارے کام کے نہیں بلکہ باس نے اپنی خوشی سے دیئے ہیں رکھ لو ورنہ باس کو برا لگے گا اور تمہاری تنخواہ بھی اچھی ہی ملے گی تمہیں ۔ تو مطلوب نے شرماتے ہوئے وہ پیسے جیب میں رکھ لیئے ۔ میں نے کہا ارے شرماتے کیوں ہو باس نے تمہیں اپنا بیٹا کہا ہے اس وجہ سے وہ تمہارے لیئے ہمیشہ اچھا ہی سوچیں گے ۔ تو مطلوب نے آسمان کی طرف منہ کر کے کہا یااللّٰہ میرے باس کی حفاظت کرنا انھیں صحت تندرستی اور لمبی عمر اور ترقی دینا آمین ۔ میں نے بھی کہا آمین ثم آمین یا رب العالمین الرحمن الرحیم۔ اس کے بعد مطلوب نے مجھ سے سلام دعا کی اور بائیک لے کر چلا گیا اور پھر جب باس میٹنگ سے فارغ ہو کر واپس آئے تو وہ بہت خوش نظر آرہے تھے پر وہ بہت جلدی میں لگ رہے تھے ۔ میں نے کہا سر خیریت ہے ماشاءاللہ آپ بہت خوش لگ رہے ہیں باس نے میری طرف دیکھتے ہوئے بنا بولے ہی ہاں میں سر ہلایا اور جلدی سے چلتے ہوئے اپنے روم میں چلے گئے میں سوچنے لگا آخر ہوا کیا ہے پہلے تو باس نے کبھی ایسے نہیں کیا یہ سوچتے ہوئے میں بھی باس کے روم میں چلا گیا تو دیکھا کہ باس نماز پڑھ رہے تھے میں واپس باہر آگیا اور کچھ دیر کے بعد واپس باس کے روم میں گیا تو باس جائے نماز پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا سر یہ کس ٹائم کی نماز پڑھی ہے آپ نے کیونکہ نہ تو یہ ظہر کا ٹائم ہے اور نہ ہی عصر کی اذان ابھی ہوئی ہے باس کے مسکراتے ہوئے پھر سے ہاں میں سر ہلایا اور جائے نماز سے اٹھ کر جائے نماز پکڑ کر بولے بیٹا یہ شکرانے کے نوافل پڑھے ہیں میں نے کیونکہ آج سے پہلے بہت بار میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں شریک ہو چکا تھا پر ہر بار میری ترقی میں کوئی نا کوئی رکاوٹ آجاتی تھی اور میری ترقی رک جاتی تھی پر آج تو ایسا ہوا کہ جیسے ہر رکاوٹ خود ہی دور ہو گئ تھی اور کمیٹی کے تمام ممبران نے میری بیسویں گریڈ میں ترقی کے حق میں دستخط کر دیئے اور مجھے بیسویں گریڈ میں ترقی مل گئی اسی وجہ سے میں خوشی سے پاگل ہو رہا تھا تو اچانک سے مجھے یاد آیا کہ میں نے تو منت کے طور پر شکرانے کے نوافل مانے ہوئے تھے اس وجہ سے پہلے میں نے اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا اور شکرانے کے نوافل ادا کیئے سچ میں اللہ تعالیٰ نے خاص کرم کیا ہے مجھ پر ورنہ تو بہت رکاوٹیں ہوتی تھی میری ترقی کی راہ میں ۔ یہ کہتے ہوئے باس بہت ہی زیادہ خوش تھے اسی وقت مجھے یاد آیا کہ آج تو مطلوب نے بھی باس کی ترقی کے لیئے دعا کی تھی ۔ میں نے کہا جی سر اور آج ہی مطلوب نے بھی آپکی ترقی اور تندرستی کے لیئے دعا کی تھی ۔ یہ بات سن کر باس اچانک سے چونک گئے اور بولے بیٹا کیا کہا تم نے ؟؟؟ میں نے کہا سر آج جب آپ میٹنگ کے لیئے گئے تھے تو آپ جو پیسے مطلوب کے لیئے رکھ کر گئے تھے وہ پیسے جب میں نے مطلوب کو دیئے تو اس نے خوش ہو کر آپ کی ترقی کے لیئے دعا کی تھی۔ باس نے کہا اس کا مطلب ہے کہ آج اسی کی دعا قبول کر کے اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ترقی دی ہے ۔ میں نے جی سر اور آپ نے بھی جو مطلوب کے سر پر باپ بن کر ہاتھ رکھا ہے تو اس وجہ سے بھی اللّٰہ تعالیٰ نے آپ سے خوش ہو کر آج آپ کو ترقی دے دی ہے سر نے کہا ارے وہ تو میرا فرض تھا ۔ پھر میں نے کہا سر میں نے مطلوب کو ڈاک والی بائیک دے دی ہے تاکہ وہ آسانی سے آفس آجا سکے کیونکہ کہ وہ آج صبح تین بار بس بدل کر آفس آیا تھا باس نے کہا اچھا پر وہ رہتا کہاں ہے ؟؟ میں نے کہا سر وہ نشتر کالونی کے پاس رہتا ہے سر نے کہا وہ تو بہت دور ہے میں نے کہا جی سر اس وجہ سے میں نے اس کو ڈاک والی بائیک دے دی ہے ویسے بھی وہ آفس میں کھڑی رہتی ہے ۔ سر نے مسکراتے ہوئے کہا بیٹا ویری گڈ مجھے تم پر فخر ہے کہ تم بھی میری طرح ہی سوچتے ہو۔ تحریر دیمی ولف ۔ اس کے بعد سر چلے گئے اور میں بھی گھر آگیا۔ اگلے دن مطلوب آفس آیا تو میں نے اس کو سلام کیا پر اس نے خواب نہیں دیا اور پھر سے اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا ایسا لگ رہا تھا جیسے کہ مطلوب میں کچھ تبدیلی سی لگ رہی تھی کیونکہ اس بار نا تو اس نے صاف کپڑے پہنے ہوئے تھے اور نا ہی بال سنوارے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ سویا ہوا ہی اٹھ کر سیدھا آفس آگیا ہے اور وہ خاموشی سے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا اور فائیلوں کو اکٹھا کرنے لگا ۔ میں نے اس کو کچھ فائیل اور دی اور وہ ڈاک لے کر چلا گیا تو کچھ دیر میں جہاں وہ ڈاک لے کر گیا تھا اس آفس سے ہمیں فون آیا میں نے فون سنا تو کوئی شخص فون کہہ رہا تھا یار یہ کس کو ڈاک دے کر بھیجا ہے میں نے کہا کیوں کیا ہوا ؟؟ وہ شخص بولا یار یہ جو بندہ ڈاک لے کر آیا ہے یہ آدام خور جانور کی طرح ہے میں ایک دم چونک گیا اور پھر میں نے کہا یار یہ آپ کیا کہہ رہے ہو آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے ؟؟ تو وہ شخص بولا بھائی جی ہمارا دماغ تو بلکل ٹھیک ہے پر یہ جو بندہ آپ نے بھیجا تھا اس کا دماغ مجھے ٹھیک نہیں لگتا اس نے ہمارے ایک آدمی کے بازو پر کاٹ کر اس کے بازو سے گوشت اپنے دانتوں سے نوچ کر کھا گیا ہے اس کا سارا بازو خون سے بھر گیا ہے ۔ اس شخص کی بات سن کر حیران رہ گیا پھر میں نے کہا اب مطلوب کہاں ہے وہ شخص بولا وہ جا چکا ہے میں نے کہا اچھا ہم دیکھتے ہیں تو وہ شخص بولا ارے دیکھنا کیا ہے اس کو پاگل خانے جمع کرا دو یاں کسی جنگل میں چھوڑ دو اس جانور کو لیکن دوبارہ ہمارے پاس مت بھیجنا ورنہ طارق صاحب سے ہم خود بات کریں گے ۔ میں نے کہا اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔ یہ کہہ کر میں نے فون بند کردیا اور مطلوب کے بارے میں سوچنے لگا کہ آخر مطلوب نے ایسا کیوں کیا اور ہوا کیا ہے آج مطلوب کو اتنے میں باس آگئے اور مجھے سوچ میں پڑا دیکھ کر بولے برخوردار کیا ہوا ہے کیا سوچ رہے ہو میں نے چونک کر کہا جی سر تو باس نے کہا یار کہاں کھوئے ہوئے ہو تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟؟ میں نے کہا جی سر میں ٹھیک ہوں اس کے بعد باس اپنے روم میں چلے گئے اور میں مطلوب کہ بارے میں سوچنے لگا اور کافی دیر بعد میں مطلوب ڈاک دے کر واپس آیا تو اس کی شرٹ پر خون کے داغ لگے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں میں غصہ تھا میں نے مطلوب سے کہا یہ تمہاری شرٹ پر خون کیسا ہے تم مطلوب نے میری بات کا جواب نہیں دیا اور میرے کمرے میں جا کر دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا میں فوراً اس کے پیچھے اپنے کمرے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ مطلوب دیوار کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کچھ کھا رہا تھا میں نے کہا مطلوب بھائی کیا ہوا ہے آپ بات کیوں نہیں کر رہے ؟؟ کسی نے کچھ ہا ہے کیا ؟؟ مطلوب نے پھر سے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور دیوار کی طرف منہ رکھے ہی کچھ کھاتا رہا۔ ۔ میں آہ آہستہ اس کی طرف بڑھا اور جیسے ہی میں نے اس کے سامنے جا کر اسے دیکھا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے مطلوب کی شکل میں مجھے کوئی وحشی سا درندہ نظر آرہا تھا اور وہ کچا گوشت کھا رہا تھا اس نے اپنے جیب سے پھر سے ایک کچے گوشت کا ٹکڑا نکالا اور اسے کھانے لگا اور میں اپنی آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہا تھا لیکن مطلوب نے ایک بار بھی میری طرف نہیں دیکھا بس وہ ایسے ظاہر کروا رہا تھا کہ جیسے وہ اکیلا ہی اس روم میں ہے اور اسے میرے پاس کھڑے ہونے کا بھی احساس نہیں ہو رہا تھا میں نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ جیسے ہی اس کے کاندھے پر رکھا تو اس نے جیسے ہی میری طرف دیکھا تو اچانک سے اس نے میرے ہاتھ پر کاٹنے کی کوشش کی تو میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ کر ایک زور دار لات اس پیٹ میں ماری جس سے مطلوب کرسی سے نیچے گر گیا اور پھر سے اٹھ کر میری طرف بڑھا تو میں نے پھر سے ایک زور دار لات اس کے پیٹ پر ماری اور وہ پیچھے کی طرف لڑکھڑاتا ہوا دیوار سے جا لگا مجھے اچانک سے اس پر پوری طرح سے غصہ آگیا تھا کیونکہ مجھے پتا چل چکا تھا کہ یہ مطلوب نہیں کوئی اور ہی چیز ہے میں نے حوصلہ کرے اس کو اس کے بالوں سے پکڑ کر کمرے سے باہر دھکیلا اور وہ کمرے کے دروازے پر جا لگا پھر جب اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا تو میری آنکھوں میں بھی غصہ دیکھ کر وہ غراتا ہوا پاگلوں کی طرح باہر بھاگ نکلا اور شور سن کر باقی لوگ بھی بھاگ کر میرے روم کی طرف آئے اور پوچھنے لگے کیا ہوا ہے یہ شور کیسا تھا میں چپ چاپ اپنی جگہ پر ہی کھڑا مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک مجھے کیا ہو گیا ہے بس میں غصے میں کھڑا لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا اتنے میں نائب قاصد بھاگ کر میرے کمرے کی طرف آیا اور بولا وہ مطلوب باہر بھاگ کر گراؤنڈ میں چلا گیا ہے میں اور باقی لوگ بھاگ کر مطلوب کے پیچھے چلے گئے اور جب ہم گراؤنڈ میں پہنچے تو کچھ لوگ ڈر کے ایک درخت کی طرف دیکھ رہے تھے جب ہماری نظر اس درخت پر پڑی تو دیکھا کہ مطلوب درخت پر الٹا لٹکا ہوا تھا اس کے پاؤں درخت کے اوپر ایک شاخ سے اڑے ہوئے تھے اور وہ نیچے سر کے بل لٹکا ہوا عجیب سی آواز نکال رہا تھا میں آفس کے دوست اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے اور مجھ سے پوچھنے لگے یہ سب کیا ہے کیا ہوا ہے اس کو میں نے کہا پتا نہیں پر یہ مطلوب نہیں ہے تو سب میری طرف حیرت انگیز نظروں سے دیکھنے لگے ان میں سے ایک بولا یار ولف کہیں تو پاگل تو نہیں ہو گیا وہ مطلوب ہی ہے زرا غور سے دیکھ اس کو ؟؟ میں نے کہا ہاں دیکھا ہے میں نے اور اب ذرا تم لوگ قریب جا کر اس کی شکل کو غور سے دیکھو ۔ پھر اشفاق (جونیئر کلرک) بولا پر یہ پاگلوں کی طرح حرکتیں کیوں کر رہا ہے میں نے کہا تم جا کر دیکھو اسے تو اشفاق ساتھ ہی پیچھے ہٹ گیا اور بولا یار میں ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا پتا نہیں کیا چکر ہے اتنے میں مجاہد بھائی (سینیئر کلرک) بولے یار ایسے تو اس کا دماغ خراب ہو جائے گا ہمیں اس کو نیچے اتارنا ہوگا میں نے کہا ہاں جلدی کرو چلو اتارتے ہیں اسے یہ کہتے ہوئے میں مطلوب کی طرف بڑھا اور میرے ساتھ باقی لوگ بھی مطلوب کی طرف بڑھے تو اتنے میں مطلوب نے خود کو درخت سے چھڑایا اور نیچے گر گیا اور گرتے ہی بیہوش ہو گیا سب نے بھاگ کر اس کی گردن کو دیکھا کہ کہیں اس کی گردن تو نہیں ٹوٹ گئی پھر مجاہد بھائی نے کہا نہیں یہ بچ گیا ہے بیہوش ہے ہم سب نے اسے اٹھایا اور آفس لے گئے اتنے میں باس بھی ہمارے پاس آگئے اور مطلوب کو بیہوش دیکھ کر بولے یہ کیا ہوا اسے ۔ کس نے کیا ہے یہ ؟؟ میں نے کہا سر یہ درخت سے گر گیا ہے اس وجہ سے بیہوش ہوگیا ہے ۔ سر نے جلدی سے مطلوب کا ہاتھ پکڑ کر اسے ہلاتے ہوئے کہا بیٹا مطلوب اٹھو کیا ہوا ہے اٹھو بیٹا اتنے میں نائب قاصد جلدی سے پانی کا گلاس لایا تو باس نے جلدی سے نائب قاصد کے ہاتھ سے گلاس پکڑ کر اپنے ہاتھ سے پانی کے چھینٹیں مطلوب کے منہ پر مارے اور کچھ دیر ایسا کرنے سے مطلوب کو ہوش آنے لگا اور اب مطلوب کی شکل بلکل ٹھیک ہو گئی تھی اتنے میں باس کی نظر مطلوب کی شرٹ پر پڑی تو وہ بولے ارے کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ دیکھو اس کے کپڑوں پر یہ خون بھی لگا ہے جلدی سے ڈاکٹر کو بلاؤ ۔ اتنے میں بلال

 (جونیئر کلرک 2) ڈاکٹر کو بلانے کے لیئے جانے لگا تو میں نے اس کی بازو پکڑ کر بلال کو روک لیا اور بنا بولے ہی اپنی گردن کو نہ میں ہلایا تو باس نے غصے میں کہا ارے کیوں روک رہے ہو اسے ڈاکٹر کو بلانے جا رہا ہے وہ دیکھو تو کتنا خون لگا ہوا ہے اس کی شرٹ پر اس کو چوٹ لگی ہوئی ہے اور تم لوگوں کو پتا ہی نہیں چل رہا جانے دو بلال کو ۔ میں نے کہا سر نہیں یہ خون مطلوب کا نہیں ہے باس نے حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کیا ؟؟ میں نے کہا سر یہ خون مطلوب کا نہیں ہے یہ پہلے سے اس کی شرٹ پر لگا ہوا تھا ۔ تو سب لوگ میری طرف دیکھنے لگے باس نے کہا تمہیں کیسے پتا ہے کہ یہ خون مطلوب کا نہیں ہے میں نے مطلوب کی شرٹ اٹھا کر دیکھا دیا کہ دیکھیں سر اس کے جسم پر کوئی چوٹ کا نشان نہیں ہے تو سر دیکھ کر کہنے لگے ارے ہاں اس کو تو کوئی چوٹ نہیں آئی پھر یہ چون کیسا تھا میں نے کہا سر وہ مجھے نہیں پتہ پر جب مطلوب ڈاک دے کر واپس آفس آیا تھا تو یہ خون اس کی شرٹ پر لگا ہوا تھا سر نے کہا ٹھیک ہے اور میں مطلوب کی شرٹ واپس نیچے کرنے لگا تو اچانک سر نے کہا رکو ذرا میں نے سر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیا ہوا سر تو سر مطلوب کے پیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ارے یہ دیکھو اس کے پیٹ پر یہ سرخ سا نشان کیسا ہے ایسا لگ رہا ہے میں نے دیکھا تو وہ وہی نشان تھا جب میں نے اس کے پیٹ پر لات ماری تھی میں کہا سر یہ کچھ نہیں ہے ایسے ہی لال ہوا ہے شاید گرنے کی وجہ سے ہے سر نے کہا ارے نہیں یہ تو اسے لگتا ہے جیسے کوئی جوتا سا بنا ہوا ہے اس کے پیٹ پر مجھے لگتا ہے اس کا ضرور کسی سے جھگڑا ہوا ہو گا اتنے میں مطلوب پوری طرح ہوش میں آگیا اور اٹھ کر سب کی طرف دیکھنے لگا تو سر نے کہا بیٹا اب کیسا لگ رہا ہے مطلوب نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنے پیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے درد کا احساس کرنے لگا تو سر نے فوراً کہا بیٹا کیا ہوا ہے یہ تمہارے پیٹ پر نشان کیسا ہے مطلوب نے کہا سر پتا نہیں پر درد بہت ہو رہا ہے پیٹ پر جلن بھی ہو رہی ہے سر نے کہا بیٹا تم لیٹے رہو میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اس کے بعد سر نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا اب جاؤ اور ڈاکٹر کو فوراً بلاؤ سر کی بات سن کر بھی میں کھڑا ہوا مطلوب کے پیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا اتنے میں سر نے اونچی آواز میں کہا کھڑے کھڑے دیکھ کیا رہے ہو جاؤ بلاؤ ڈاکٹر کو میں نے چونک کر کہا جی جی سر میں بلاتا ہوں یہ کہہ کر میں ڈاکٹر کو فون کرنے کے لیئے جانے لگا تو پیچھے سے مجھے سر کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہے تھے کہ پتا نہیں آج کل اس لڑکے کا دماغ کہاں رہتا ہے اس کو کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی ۔ میں نے دل میں کہا سر آپ کو کیا پتا کیا ہوا ہے ۔ اس کے بعد میں نے ڈاکٹر کو بلا لیا پھر ڈاکٹر نے مطلوب کو دیکھا اور بولا یہ تو کک کا نشان لگتا ہے جیسے کسی نے زور دار کک ماری ہو ۔ مطلوب نے کہا پر ڈاکٹر صاحب مجھے تو کسی نے کک نہیں ماری ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا پر مجھے تو یہی لگتا ہے خیر میں تمہیں پین کلر انجیکشن لگا دیتا ہوں کچھ دیر میں درد ختم ہو جائے گا اور ایک ٹیوب لکھ دیتا ہوں اسے اس پر لگا لیا کرنا سہی ہو جاؤ گے باس نے کہا ڈاکٹر صاحب اسے پوری طرح چیک کر لیں یہ درخت سے گرا تھا اور بیہوش بھی ہوا تھا ڈاکٹر صاحب نے کہا اچھا ۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے مطلوب سے کہا آپ ذرا کھڑے ہو جاؤ تو مطلوب کھڑا ہو گیا پھر ڈاکٹر صاحب نے مطلوب سے دو تین ورزش کروائی اور بولے سر یہ بلکل ٹھیک ہے اس کو کہیں کوئی فیکچرز نہیں آئے تو سر نے کہا جی ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب پھر ڈاکٹر نے ایک انجیکشن مطلوب کو لگایا اور پھر ایک پرچی پر ٹیوب لکھ کر دی اور فیس لے کر چلے گئے میں نے نائب قاصد کو پرچی دی اور اسے ٹیوب لینے کے لیئے بھیج دیا پھر کچھ دیر کے بعد مطلوب ٹھیک ہو گیا پر حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا آفس کے تمام دوستوں نے مطلوب سے پوچھنے کی کوشش کی پر مطلوب کہنے لگا مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں اور اپنی شرٹ پر لگے خون کو دیکھ کر عجیب سے منہ بناتے ہوئے بولا یہ کیا ہوا ہے ۔ میں نے کہا کچھ نہیں کسی جانور کا خون لگ گیا تھا تمہیں ۔ اس کے بعد مطلوب نے کہا کیا اب میں گھر جا سکتا ہوں میں نے کہا ہاں ہاں جاؤ اور مطلوب چلا گیا پھر میں نے باس کے پاس جا کر انھیں سب کچھ بتایا تو باس مجھ پر غصہ ہو گئے اور بولے تم پاگل تو نہیں ہو کوئی ایسے مارتا ہے کسی کو میں نے کہا سر وہ جانور کی طرح حرکتیں کر رہا تھا باس نے کہا چلو مان لیا کہ وہ اس وقت جانور بن گیا تھا پر تم میں تو عقل تھی تم اسے کسی اور طرح بھی روک سکتے تھے سب کو بلا سکتے تھے تم خود کیوں بھیڑئے بن گئے تھے اگر اسے کچھ ہو جاتا تو اتنی شدید قسم کی لات ماری ہے اس کو کہیں وہ مر جاتا تو میں اس کے ماموں کو کیا منہ دکھاتا ۔ میں نے کہا سر سوری بس غصے میں ہوا سب۔ باس نے کہا میں نے تمہیں پہلے بھی بہت بار بولا ہے اپنے غصے پر قابو رکھو پر تم سنتے ہی نہیں ہو کسی کی بس کسی نے کچھ کہا نہیں اور تمہارے اندر کا جانور فوراً باہر آجاتا ہے اپنے اندر کے اس بھیڑئے کو اپنے اندر ہی جکڑ کر رکھا کرو ورنہ کبھی نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے جس کا شاید تمہیں اندازا نہیں ہے ۔ میں نے منہ نیچے رکھتے ہوئے کہا سر سوری آگے سے ایسا نہیں ہو گا۔ تحریر دیمی ولف ۔ باس نے کہا ٹھیک ہے پر آگے سے مطلوب کی زمعداری میں خود ہی لوں گا مجھے اب کسی بھیڑیئے کہ حوالے نہیں کرنا اپنے بیٹے کو ۔ میں نے کہا سر آپ ایسا نا کریں میں دیکھ لوں گا آپ کو سوری بھی بولا ہے ۔ باس نے کہا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں تمہیں بار بار ڈانٹ ڈپٹ کروں پر اس کے پیٹ کو دیکھ کر میرا دماغ ابھی تک کام نہیں کر رہا کہ ایک بیمار آدمی کو تم نے ایسے جانوروں کی طرح مارا ہے اور وہ بھی اس کو جو بیچارہ خود بھی نہیں جانتا کہ اس کو ہوا کیا ہے میں نے کہا سر اب وہ ٹھیک تو ہو گیا ہے باس نے کہا شکر مناؤ کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے ورنہ تم نے تو اسے مار ہی ڈالا تھا ۔ میں نے کہا سوری سر میں اب اور بات نہیں کرونگا اس بارے میں آپ نے جو سزا دینی ہے آپ دے سکتے ہیں پر میں نے خود کو بچانے کے لیئے ایسا کیا تھا۔ تحریر دیمی ولف ۔ باس نے کہا ارے واہ کیا بات ہے اب بھی تم یہی رہے ہو جو تم نے کیا ٹھیک کیا ہے ارے میں کیا مر گیا تھا جو تم نے مجھے بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا جبکہ میں آفس میں ہی تھا اور تم میرے بیٹے کو مار رہے تھے ؟؟