بچوں کی بر وقت شادی ۔۔والدین کی اولین زمہ داری؟

امی ابو کیا میں زنا کرلوں ؟ منه کالا کرلوں ؟ نہیں تو پھر تم ہی بتاؤ میں کیا کروں ؟ اپنے والد کو کتنی دفعہ کہہ چکا ھوں که ابو میری شادی کروادیں ، تو کہتے ھیں تجھے کیا جلدی ھے ؟ ابو کو خود سمجھنا چاہیے کہ ایک نوجوان آدمی کو کیا جلدی ہوتی ھے ، میں گناه سے بچنا چاھتا ھوں ، میں جہنم کی آگ سے بچنا چاھتا ھوں ................... اتنا کہہ کر وه نوجوان رکھا ، تو اسکی آنکھوں میں نمی کی ایک ہلکی سی لہر تیرتی دیکھی- کل سے سوچ رہا ھوں که یہ صرف ایک نوجوان کا مسئلہ نہیں ، اندازه کیجیۓ ! ایک ایسے ماحول میں جو جنسی ترغیبات سے دہک رہا ھوں ، بھڑک کر شعلے مار رہا ھو اور جن شعلوں کی لپٹ نوجوان بچوں کے چہروں تک آرہی ھو ، کیا والدین کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرنا چاھیۓ ! ذیاده تر والدین اپنی ناک اونچی رکھنے کے چکر میں بچوں کی شادی میں تاخیر پہ تاخیر کرتے چلے جاتے ھیں کہ جی اتنے اتنے زیور نھیں بنائیں گے اور فلاں شادی ھال لاکھوں میں بک نھیں کرینگے تو لوگ کیا کہیں گے , لیکن وه یه بھول جاتے ھیں که اگر خدا نخواستہ بچے زنا میں مبتلا ھوگۓ تو الله سبحان و تعالی کیا کہیں گے...! دنیا کے دستور پورے کرکے بمشکل 30 , 32 سال کی عمر میں تب شادی کردی جاتی ھے , جب بیٹا جوانی کی رعنائیاں کھو چکا ھوتا ھے , اور اسے بیوی سے رغبت باقی نھیں رھی ھوتی , یوں ہنستا بستا گھر جہنم بن جاتا ھے , اندازه کیجیۓ ! 15 سال کی عمر میں جوان ھونے کے بعد 30 سال تک پھنچنے کے اس زمانے میں نوجوان پر کیا کیا قیامتیں نہ گزرتی ھونگی , اس کے پاس بس دو ہی آپشن ھوتے ھیں : یاتو وه گناه سے اپنے آپ کو بچا کر روز اپنے ھی خواھشات کا قتل کرکے ھر لمحہ جیتا اور ھر لمحہ مرتا ھے , اور یا وه گناھوں کی اندھی وادی میں بھٹک کر ایسا گم ھوجاتا ھے کہ جب واپس آتا ھے تو اسکی گٹھڑی میں سواۓ حسرت و افسوس کے اور کچھ نھیں ھوتا .. اور اس سب کی ذمہ داری ان والدین پر عائد ھوتی ھے جو اپنی ناک اونچی رکھنے کیلٸے اپنے جوان بچوں کو پستیوں میں دھکیل دیتے ھیں ..... خدارا ! لوگوں کی فکر چھوڑیٸے , اپنے بچوں کی فکر کریں

بچوں کی بر وقت شادی ۔۔والدین کی اولین زمہ داری؟
بچوں کی بر وقت شادی ۔۔والدین کی اولین زمہ داری؟