محترمہ نورجہاں اور مدینہ پاک کا لنگر

اس تحریر نے مجھے رلا دیا ???? (اعجاز طاہر) ملکہ ترنم نورجہان اور مدینہ منورہ کا لنگر???? مدینہ منورہ کا دسترخوان ان اس روئے زمین پر ایک ماورائے عقل چیز ہے لاکھوں لوگ ہر رمضان المبارک میں دنیا کے کونے کونے سے سے اس دھرتی پر اپنی روح کی پیاس بجھانے آتے ہیں۔ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود بھی اس شمع توحید کے پروانوں کے نہ تو شوق میں کمی آئی ہے اور نہ ہی ان کے شوق کے رنگوں کی چکاچوند کم ہوئی ہے۔ رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی یہ دسترخوان دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل کی تمنا بن جاتا ہے گنبد خضرا کے سائے کی ٹھنڈک سمیٹنے کیلئے ہر دل بیقرار نظر آتا ہے جو ایک مرتبہ اس دستر خوان پر افطاری کر لیتا ہے وہ تاحیات اس نعمت کی لذت کو بھلا نہیں سکتا۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی در پر گزارے ہوئے دن اس کی قیمتی متاع ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی کے مصروف اوقات میں بھی ان تنہائیوں کا متلاشی رہتا ہے جس میں ان یادوں کی مہک سے اپنے وجود کو معطر کر سکے۔یہی یادیں اس کی تنہائیوں کو مہکائے رکھتی ہیں اور نرمی سے آکر اس کی آنکھوں پر نمی کے بوسے دیتی دکھائی دیتی ہے ۔ یہ رمضان المبارک وہاں مسلسل حاضری دینے والوں کے لیے ایک مشکل ترین وقت ہے جب مسجد نبوی شریف کے دروازے ان کے لئے بند ہو چکے ہیں اب ان کے پاس ان یادوں اور ان یادوں کی لذت کے سوا کچھ نہیں وہ ہر لمحہ یا تو تنہائی میں ان یادوں کے پھول چننا چاہتے ہیں یا پھر ایسے احباب کے متلاشی رہتے ہیں جن سے سے وہاں کی باتیں کرکے وہ اپنے دل کو ہلکا کر سکیں۔ ایک روشن اور خوبصورت دن تھا مدینہ منورہ کی فضا ہمیشہ کی طرح اپنے ہر مہمان کی بڑی تندہی سے میزبانی کرتی محسوس ہو رہی تھی کیا بچہ کیا بوڑھا ہر مہمان اپنی قسمت پر نازاں خوش وخرم دکھائی دے رہا تھا ہم بھی وہاں اپنی موجودگی پر شاداں وفرحاں اللہ کی شکرگزاری کا پیکر بنے موجود تھے ۔ وہاں کے بزرگوں کی صحبت میں ان کے اقوال اور ان کی یادوں کے قیمتی موتی چننے کے لیے با ادب اور اور چوکس بیٹھے تھے کہ مبادا ان کے قیمتی الفاظ کا کوئی جوہر چھٹنے نہ پائے۔ باتوں میں بات مدینہ منورہ کے دسترخوان کی طرف چل نکلی لی کیونکہ کہ پچھلے سال تک دسترخوان انتہائی جدید اور منظم انداز میں سجایا جاتا تھا ۔ اور لاکھوں لوگ انتہائی منظم طریقے سے بیٹھ کر اپنے اپنے من پسند کھانوں سے روزہ افطار کرتے تھے ۔ مستعد اور تجربہ کار کارکن لائنوں میں بیٹھے ہوئے روزہ داروں کے آگے گرم گرم کھانے کی پلیٹیں رکھتے دکھائی دیتے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کیا پرانے وقتوں میں بھی ایسے ہی یہاں پر دسترخوان لگتا تھا تھا؟میری بات سن کر ہوں ماضی کے سمندر میں اتر گئے اور پھر مسکراتے ہوئے سر اٹھایا اور یوں گویا ہوئے۔ برسوں پہلے بھی مسجد نبوی شریف میں لنگر بٹا کرتا تھا ۔صاحب ثروت لوگ اعلیٰ اقسام کے کھانوں کی دیگیں بنواتے اور یہاں آکر بانٹا کرتے تھے ان میں پاکستان کے امراء بھی شامل تھے ایسے ہی ایک پاکستانی بڑی کاروباری شخصیت جو ہر سال باقاعدگی سے یہاں آ کر اپنا لنگر تقسیم کرتے تھے۔ اور ہم لوگ ان کے ساتھ تقسیم میں مددگار بننا اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ لنگر بٹ رہا تھا ایک طویل قطار میں لوگ اطمینان سے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک میرے ساتھی نے مجھے کہنی لگائی اور بولا سامنے دیکھو لائن میں تو ملکہ ترنم نور جہاں کھڑی ہوئی ہے میں نے بے ساختہ نگاہیں اٹھائیں تو مجھے لائن میں سفید لٹھے کی چادر میں لپٹی نورجہان دکھائی دی اس کا چہرہ میک اپ سے عاری تھا۔وہ کہیں سے بھی سکرین پر دیکھنے والی نورجہاں نہیں تھی اس کے حسین چہرے کو مدینہ شریف کی پاک فضاؤں میں ایک نیا حسن عطا کر دیا تھا اس لمحے وہ کوئی پاکیزہ روح کی طرح پرنور اور چہرے پر عجیب سا شوق اور حاضری کے آداب کو ملحوظ خاطر ہر رکھتے ہوئے قرینے سے لائن میں کھڑی اس بستی کی ایک باسی دکھ رہی۔ اور اس کی آنکھوں میں اس بچے کی سی شوق اور لگن تھی جس نے اپنا سارا سبق بہت اچھا سا یاد کرلیا ہو اور اب وہ اپنے استاد کو سنانے کے لیے بےقرار دکھائی دے رہا ہو۔ ہماری بات سن کر ہمارے پیچھے صاحب لنگر متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کیا کہہ رہے ہو؟ تو ہم نے انہیں بتایا کہ یہ لائن میں پاکستان کی مشہور اور اداکارہ گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں لنگر لینے کے لیے کھڑی ہے وہ ایک بولے ارے بھاگو جاؤ میڈم کو بلاؤ ان سے کہو انہیں لائن میں لگنے کی کیا ضرورت ہے .پھر انہوں نے لڑکوں کو حکم دیا کہ اچھا سا کھانا پیک کرکے میڈم کو پہنچائیں جب لڑکا بھاگا ہوا میڈم کے پاس پہنچا اور اس نے میڈم کو صاحب کا پیغام پہنچایا تو نورجہاں شان بے نیازی سے مسکرائی اور پنجابی میں کہنے لگی ناں وے رہن دے میں اس در دی مانگتی آ ں مینوں لاین و چ لگا رہنے دے۔ یہ کہہ کر کر وہ شان بے نیازی سے سے دوبارہ نہ لا ئن میں اپنی باری کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اس کے اس جواب نے ہم سب کو لاجواب کر دیا ۔ باباجی یہ کہہ کر خاموش ہو گئے اور مجھے اس سوال کا جواب مل گیا کہ جب 27 رمضان المبارک کو نورجہان کی وفات ہوئی تھی تو ہمارے ملک میں بہت چہہ مگوئیاں ہو رہی تھی کہ کہ یہ تو لیلۃ القدر ہے اس مبارک رات میں میں ایک ناچنے اور گانے والی کی وفات کیسے ہو سکتی ہے؟؟ یہ تو خدا کے راز ہیں وہ تو دلوں کے بھید۔جاننے والا ہے۔ کھلا ہےسبھی کے لیے باب رحمت یہاں کوئی رتبے میں ادنی ناعالی ۔۔۔منقول

محترمہ نورجہاں اور مدینہ پاک کا لنگر
Noor jahan
محترمہ نورجہاں اور مدینہ پاک کا لنگر