ملکی قرضہ 14.8 ٹریلین سے بڑھ کر 23.7 ٹریلین تک پہنچ گیا

32

قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ ملکی قرضہ 14.8 ٹریلین سے بڑھ کر 23.7 ٹریلین تک پہنچ گیا۔ پیر کو وزارت خزانہ نے گزشتہ پانچ سال کے دوران قرض میں اضافے کی تفصیلات پیش کردی جس کے مطابق پاکستان پر 2016/17 میں کل سرکاری قرضہ 21.4 ٹریلین تھا جو ستمبر 2020 تک 36.9 ٹریلین روپےہوگیا، تحریری جواب میں بتایاگیاکہ ملکی قرضہ 14.8 ٹریلین سے بڑھ کر 23.7 ٹریلین تک پہنچ گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی قرضہ جو 6.6 ٹریلین تھا وہ 13.2 ٹریلین تک پہنچ گیا۔دوسری جانب مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہاہے کہ

مجھے یہ بتاتے مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری برآمدات میں اضافہ کا رجحان برقرار ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ 8 سال کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی برآمدات مسلسل چار ماہ 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں،جنوری 2021 میں پاکستان کی برآمدات 8 فیصد بڑھ کر 2.135 ارب ڈالر رہیں،گزشتہ سال جنوری میں برآمدات 1.978 ارب ڈالر تھیں،رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران برآمدات 5.5 فیصد بڑھ کر 14.245 ارب ڈالر ہوگئیں،گزشتہ مالی سال میں اسی دوران یہ برآمدات 13.5 ارب ڈالر تھیں،ہمارے پرعزم برآمدکنندگان نے کرونا وائرس وبا اور بیرونی منڈیوں میں مندی کے باوجود برآمدات بڑھائیں،میں اس پر برآمدکنندگان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دوسری جانب افغانستان کیساتھ گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان نے کتنی تجارت کی،تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔وزیر تجارت نے تحریری جواب کہاکہ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کی افغانستان کے ساتھ برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا،پاکستان کی افغانستان سےگزشتہ دس برس میں درآمدات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں،مالی سال 11-2010 میں پاکستان کی افغانستان سے برآمدات 2336 ملین ڈالرز اور درآمدات 172 ملین ڈالرز تھی،،مالی سال 20-2019 میں افغانستان میں برآمدات کم ہو کر 852 ملین ڈالرز اور درآمدات بڑھ کر 469 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.