پھٹی ایڑیوں کی پریشانی دور کریں

153

پھٹی ایڑیاں نہ صرف شرمندگی سے دو چار کرنے والی بلکہ ہمہ وقت ایک تکلیف بھری بے سکونی میں مبتلا کیے رکھنے والی پریشان کن صورتحال کا نام ہے۔یہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو آسانی سے اپنا شکار بنا لیا کرتی ہے۔اس کی وجہ شاید خواتین کا زیادہ تر کھلے منہ کے جوتے‘ سینڈلز اور چپلوں کا استعما ل کرنا ہے جبکہ مردوں کی اکثریت موزے اور بند منہ کے جوتے پہنا پسند کرتے ہیں۔
اسی لئے ان کے پیر دھول مٹی گرد و غبار سے بھی محفوظ رہتے ہیں اور پیروں کی ایڑیاں خشک ہو کر تڑخنے سے بھی بچی رہتی ہیں۔
ایڑیوں کے پھٹنے کے اہم اسباب
وہ افراد جن کی جلد قدرتی طور پر خشک ہو اور وہ اپنی جلد بالخصوص پیروں کی جلد کو صاف ستھرا رکھنے اور اسے ضروری نمی و تروتازگی پہنچانے کے لئے عملی قدم یا اسکن کیئر ٹریٹمنٹ سے استفادہ حاصل نہ کرتے ہوں‘ایسے افراد پھٹی ایڑیوں کی پریشانی میں زیادہ مبتلا ہوا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ مختلف جلدی بیماریوں جیسے کہ ایگزیما یا سواراسس (Psoriasis) میں مبتلا افراد کو بھی ایڑیوں کے پھٹنے کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فنگل انفیکشن کی پریشانی میں مبتلا افراد کے تلوؤں کی جلد کو سوجا کر پھولانے اور ایڑیوں کے پھٹنے کا اہم محرک ثابت ہو سکتا ہے۔ کیراٹوڈرمس (Keratodermas) یہ وہ جلدی بیماری ہے جس میں پیروں کی جلد اور تلووں کی کھال سخت ہو کر پھول جاتی ہے۔
(ہاتھ کی ہتھیلیوں کی جلد بھی)یہ دراصل ایک جنیاتی یا موروثی بیماری ہے جس کا علاج (حالت کے شدید ہو جانے پر)ذہنی ادویات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔
کیا کرنا چاہیے
نیم گرم پانی میں پیروں کو کم از کم آدھے گھنٹے تک روزانہ بھگوئیے جھانوے یا ہارڈ برسیلز برش کی مدد سے اینٹی بیکٹیریل سوپ کے ساتھ پیروں کو دھوتے ہوئے ایڑیوں کی سخت جلد کو ملاحت و نرمی کے ساتھ صاف کرنے کی کوشش کریں۔
پیر دھونے کے بعد ان پر معیاری فٹ موئسچرائزنگ کریم لگائیے جو کہ پیرافن (Paraffin) اور سالسیلیک ایسڈ (Salicylic) ایسڈ کی خوبیوں سے بھرپور ہو رات سوتے وقت ضرور اپنی ایڑیوں پر لگائیے سالسیلیک ایسڈ مردہ خلیات سے اٹی ہوئی سخت مردہ جلد کو جھاڑنے جبکہ پیرافن سکون پہنچانے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔موزے پہن کر سونے سے ایڑیوں و تلووں پہ لگائی گئی کریم جلد پہ لگی رہتی ہے۔

کیا نہیں کرنا چاہیے!
اگر ایڑیاں زیادہ پھٹی ہوئی ہیں اور ان میں سے خون بھی رستا ہے تو پیروں کی مردہ جلد صاف کرنے کے لئے جھانوے یا برش سے انہیں زیادہ رگڑنے سے گریز کریں کیونکہ زیادہ رگڑنے کے نتیجے میں نہ صرف مزید تکلیف بڑھے گی بلکہ ایک اور موٹی ابھار کی حامل مردہ پرت پیدا ہو جائے گی اس کے علاوہ تلوے بھی سرخی مائل اور خارش زدہ ہو جائیں گے۔لیموں کے چھلکے ایڑیوں پہ ملنے سے ان کے پھٹنے کی شکایت میں کمی کی جا سکتی ہے۔
ہوشیار باش!
اگر پھٹی ہوئی ایڑیوں کے اطرافی حصوں پہ پیلاہٹ نمایاں ہوپس و خون رسنے کی شکایت کا سامنا ہو تو فوری طور پر کسی ماہر ڈرما ٹولوجسٹ سے رجوع کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.