اگر قانون ہاتھ میں لیا تو ایسا سلوک کروں گا کہ تاریخ یاد کرے گی

پوری کوشش ہو گی پی ڈی ایم کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، لیڈر بھگوڑا نہیں ہوتا، مدراس کے بچوں کو کسی صورت استعمال نہیں ہونے دیں گے: وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

17

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر قانون ہاتھ میں لیا تو ایسا سلوک کروں گا کہ تاریخ یاد کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے راولپنڈی میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پی ڈی ایم 26 مارچ کی بجائے 26 فروری کو اسلام آباد آ جائے، کوشش ہو گی ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
لیکن قانون کو کسی صورت ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آپ پرامن طریقے سے آئیں گے تو آپ کا استقبال کریں گے۔ لیکن اگر قانون ہاتھ میں لیا تو ایسا سلوک کروں گا کہ تاریخ یاد کرے گی۔ 31 جنوری کی ڈیڈ لائن تھی لیکن ہوا کچھ نہیں۔ مولانا فضل الرحمان پنڈی جانے کی باتیں کرتے تھے، لیکن اب وہاں دیکھتے بھی نہیں ہیں۔
کہتے تھے کہ پنڈی جا رہے ہیں، پھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ضرور آئیں، چائے پلائیں گے۔

مولانا کل تک جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے تھے اب وہیں سے سینیٹ کا الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ چیلنج کرتا ہوں آج مریم کو باہر جانے دیں تو پی ڈی ایم ختم ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی اور مولانا دونوں اپنا راستہ بند گلی سے کھلی گلی میں لے آئے اور ن لیگ کو بیچ چوراہے پر چھوڑ آئے ہیں۔ اس سے قبل وزیر داخلہ کی جانب سے پی ڈی ایم مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کچھ دنوں میں راولپنڈی کا نام بھول جائیں گے، وہ اب کبھی راولپنڈی کا نام نہیں لیں گے۔
پی ڈی ایم کے مارچ سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پی ڈی ایم والے اسلام آباد کا چکر لگا کر واپس لوٹ جائیں گے، عمران خان اپنے 5 سال پورے کرے گا۔ پی ڈی ایم لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد سے آگے نہیں جائے گی۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کریں گے،میں خواہش رکھتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخواہ ، بلوچستان میں سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لیں، تاکہ جمہوریت مضبوط ہو، اگر مولانا فضل الرحمان خود سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے تو میرا خیال ہے کہ ان کے غصے میں کمی آئے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.