”اسرائیل میں 70 سالوں میں اتنے لوگ جنگ سے نہیں مرے، جتنے امارات سے تعلقات بحالی کے بعد کورونا سے مر گئے ہیں“

اسرائیلی وزارت صحت نے کورونا کیسز پھیلنے کا الزام امارات پر لگا دیا، اسرائیل وزیر اعظم کی جانب سے متنازعہ بیان پرمعافی مانگ لی گئی

75

اسرائیل میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کورونا کیسز بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر صحت کی جانب سے اسرائیل میں کورونا کیسز بڑھنے کا الزام متحدہ عرب امارات پر تھوپ دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت کی سربراہ شیرون الرائے پریس نے اس ہفتے اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل میں70 سالوں میں اتنے لوگ جنگ سے نہیں مرے، جتنے لوگ امارات سے تعلقات بحالی کے بعد دو ہفتوں کے دوران کوروناکی وجہ سے مر گئے ہیں۔
یعنی انہوں نے امارات کے ساتھ سیاحتی سرگرمیاں بڑھ جانے کو اسرائیل میں کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ قرار دیا تھا۔ اسرائیل کے چینل 13 کی جانب سے الرائے پریس کے اس متنازعہ بیان کو ایک لطیفہ قرار دیا گیا ہے۔
اس متنازعہ بیان پر اماراتی حکومت کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم اس بیان پر سخت ردِعمل آنے کے بعد اسرائیلی حکومت کی جانب سے معافی مانگ لی گئی ہے۔

اماراتی حکام نے وزارت صحت کی سربراہ کے بیان پر اسرائیلی حکام سے وضاحت طلب کی تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے معذرت بھرا بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزارت صحت کے سربراہ کا بیان حقائق کے منافی ہے۔ امارات کے ساتھ سیاحتی سرگرمیاں بحال ہونے سے اسرائیل میں کورونا کیسز بڑھنے اور اموات میں اضافہ ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر میں دونوں ممالک نے سفارت خانے قائم کیے تھے۔ جس کے بعد سیاحتی سرگرمیاں شروع ہونے سے ہزاروں اسرائیلی امارات کی سیر و تفریح کو جا چکے ہیں۔ جنوری2021ء میں اسرائیل میں کورونا کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے برطانیہ میں پیدا ہونے والے نئے کورونا وائرس کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ کیسز میں اضافے کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا اور دو ہفتوں کے لیے بین گوریان ایئرپورٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.