آسٹریلیا : پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا مہنگا پڑ گیا

دو سال پہلے حافظ محمد فرید نے اپنی ہی ٹیکسی میں ایک آسٹریلین لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کی وجہ سے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

232

میلبرن (Its Urdu) آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی ابر ڈرائیور نے عزت دار پاکستانی کمیونٹی کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ پاکستانی حافظ محمد فرید نے ڈھائی برس قبل ستمبر 2018 میں ایک رات میلبرن شہر سے 14 کلومیٹر دور علاقے میں دیر رات پارٹی میں شرکت کے بعد گھر جانے والی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

 

تفصیلات کے مطابق حافظ محمد فرید بابر نامی نوجوان چند برس قبل اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے حصول کیلئے آسٹریلیا گیا تھا۔ اور پھر اب حافظ محمد فرید آسٹریلیا میں ابر ٹیکسی چلا کر پاکستان میں موجود اپنی بیوی اور دیگر اہل خانہ کا پیٹ پال رہا تھا۔ تقریبا
دو سال پہلے حافظ محمد فرید نے اپنی ہی ٹیکسی میں ایک آسٹریلین لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کی وجہ سے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے پاکستان سے بھیجی جانے والی ہیروئن ، نیڈرلینڈز کی تاریخ میں سب بڑی ہیروئن اسمگلنگ پکڑی گئی

 

مجرم نے 18 سالہ آسٹریلین لڑکی کو ٹیکسی میں سوار ہوتے وقت پیش کش کی تھی کہ اگر وہ اسے جنسی تعلق قائم کرنے دے تو ایسی صورت میں وہ اس سے کم کرایہ لے گا۔ پر لڑکی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس پورا کرایہ دینے میں بھی کوئی مسلہ نہی۔ پر حافظ محمد فرید نے کچھ دور جا کر ٹیکسی روک دی اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی لڑکی پر جنسی حملہ کر دیا۔ اور اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

 

زیادتی ہونے کے بعد لڑکی ٹیکسی سے بھاگ کر قریبی ایک گھر پہنچی جہاں سے اس نے فورا پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ پولیس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد فوراَ جائے وقوعہ پر پہنچی اور ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔

 

گرفتاری کے بعد حافظ بابر پرآسٹریلین  عدالت میں کافی طویل کیس چلا تھا۔ مجرم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہوا تھا وہ رضامندی سے ہوا تھا۔ تاہم تفتیش کے دوران ڈی این اے ٹیسٹ سے سب ثابت ہو گیا۔ جس کے بعد حافظ محمد فرید کو عدالت نے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیے اسلام قبول کرنیوالے جرمن نوجوان نے پاکستان میں ہی منگنی کر لی

 

عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ مجرم کو 3 سال سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں مل سکتی ہے۔ اب بتایا گیا ہے کہ مجرم نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں ٹیکسی چلا کر پاکستان میں موجود اپنی بیوی کی کفالت کرتا تھا اور اب ان کی کفالت کرنے والا کوئی بھی نہی ہے۔ اس لیے اس کی سزا میں نرمی کی جائے۔ حافظ محمد فرید کے اس اعتراف کے بعد اسے سزا سنانے والے جج نے فیصلہ دیا ہے کہ 3 سال قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم کو واپس پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے۔

3 تبصرے
  1. […] یہ بھی پڑھیے آسٹریلیا : پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو لڑکی کے ساتھ جنسی … […]

  2. […] یہ بھی پڑھیے آسٹریلیا : پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو لڑکی کے ساتھ جنسی… […]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.