پی ڈی ایم کا پہلا بیانیہ فیل، ہر جماعت کا لہجہ بدل گیا

مولانا فضل الرحمن بھی اتنے سخت نہیں نظر آ رہے جتنے پہلے تھے،پی ڈی ایم قیادت بہت تجربہ کار ہے سوچے سمجھے بغیر فیصلے نہیں کرے گی۔ سہیل وڑائچ کا تجزیہ

36

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کواستعفیٰ دینا پڑے گا ، کیوں کہ یہ دھاندلی زدہ حکومت ہے۔ انہوں نے پنڈی میں لانگ مارچ کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ دھرنا شروع ہو گیا تو اسے اسلام آباد یا پنڈی جا کر مشکل ہو گا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ پنڈی جائے گا یا اسلام آباد جائے گا۔پی ڈی ایم کو پہلے بیانیے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی اس لیے ہر جماعت کا لہجہ تبدیل ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اتنے سخت نہیں نظر آ رہے جتنے پہلے تھے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم قیادت بہت تجربہ کار ہے سوچے سمجھے بغیر فیصلے نہیں کرے گی، پی ڈی ایم کا جلسہ بھر نہیں سکی اس کا انہیں بڑا نقصان ہوا۔

۔سہیل وڑائچ کا مزید کہنا ہے کہ پی ڈی ایم تحریک مومنٹم نہیں بنا انہیں دوسری لہر میں مومنٹم بنانا پڑے گا۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے جاری حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں اعلان کردہ لانگ مارچ کے اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی جانے کے امکانات انتہائی محدود ہوگئے۔دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے راولپنڈی کی طرف مارچ کا رخ کرنے کا امکان انتہائی کم ہے کیوں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کابیانیہ کافی دھیمہ پڑ چکا ہے جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی تو اس معاملے میں بالکل بھی مولانا کے ساتھ نہیں چلے گی۔

نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں مدرسے کے طلبہ ہی رہ جاتے لیکن لیکن مدرسے کے طلبہ یہ رسک نہیں لیں گے اس لیے امکان بہت ہی کم ہے کہ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی کی طرف آئیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.