یہودی شادی کے بعد اپنی پہلی رات” کمبل کوہ طور” پر کیوں گزارتے ہیں حیرت انگیز تفصیلات

152

(Its Urdu News) کمبل اوڑھ کر کوہ طور پر سونے کی روایت ، یہودیوں کی بہت تاریخی روایت ہے۔یہ لوگ شادی کے فوراً بعد کوہ طور پر آتے تھے اور اپنی شادی کی پہلی رات کوہ طور کے راستے میں کمبل کے اندر گزارتے تھے۔ ان کا خیال تھا یہ عمل صالح اولاد کے لیے بہت ضروری ہے جبکہ یہ روایت آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ طور کی چوٹی دنیا کا وہ واحد مقام ہے جہاں تینوں آسمانی مذاہب (مسلمان،مسیحی اور یہودی) کے زائرین اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر اللہ پاک کے حضور دعا کرتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے جانیے ان 7لوگوں کے بارے،جنہیں قبر میں دفناتے ہی ان کے چہرے کعبہ سے خود بخود پھیر دیے جاتے ہیں

یہ وہ مقام ہے جہاں کوئی نا بندہ رہتا ہے اور نہ کوئی بندہ نواز ۔لیکن جوں جوں سورج چڑھتا جاتا ہے اور لوگ طور سے نیچے اترتے جاتے ہیں یہ لوگ توں توں دوبارہ سے یہودی، عیسائی اور مسلمان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ طور کے دامن میں ایک جگہ سینٹ کیتھرائن پہنچ کر یہ دوبارہ ایک دوسرے کے   دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ صرف کوہ طور کی برکت ہے کہ چند لمحوں کے لیے تینوں مذاہب کے درمیان موجود نفرت اور دشمنی کی دیواریں گرجاتی ہیں اور اللہ کے بندے صرف اللہ کے بندے بن جاتے ہیں۔ کوہ طور سے واپسی کا سفر چڑھائی سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے جانیے کاجو میں چھپا ہے ایک ایسی بیماری کا علاج ،جس میں آج کل ہر دوسرا پاکستانی مبتلا ہے ،مزید جانیں

 

زائرین کھلی آنکھوں سے خطرناک ترین سیڑھیاں اور ہولناک گھاٹیاں دیکھتے ہیں اور ہر بار رک رک کر یہ سوچتے ہیں کیا کل رات ہم اسی مقام سے بھی گزرے تھے اور یہ سوچ کر ان کی روح تک کانپ جاتی ہے کہ پورے پہاڑ پر گھاس کا تنکا تک نہیں ہوتا۔کوئی پرندہ اور کوئی جانور بھی نہیں یہاں تک کہ کوئی پانی کا کوئی چشمہ بھی نہیں ہے۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.