(Bolas Spider)ایک انتہائی عجیب و غریب اور خطرناک مکڑی ،بولاس مکڑی

اس انتہائی عجیب و غریب اور خطرناک مکڑی کو بولاس مکڑی یا کمند یا پھندا پھینکنے والی مکڑی کہا جاتا ہے ۔اس کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ نر حشرات کو ہی اپنا شکار بناتی ہے۔

50
  • اس انتہائی عجیب و غریب اور خطرناک مکڑی کو بولاس مکڑی یا کمند یا پھندا پھینکنے والی مکڑی کہا جاتا ہے ۔اس کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ نر حشرات کو ہی اپنا شکار بناتی ہے۔
    مکڑیوں کی بیشمار انواع میں سے بولاس مکڑی اپنی شکاری تدابیر کی بناء پر سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ بولاس مکڑی اپنے شکار کو پکڑنے کے لئے ایک خاص قسم کے پھندے کا استعمال کرتی ہے۔بولاس مکڑیاں دو مرحلوں میں اپنا شکار پکڑتی ہیں۔پہلے مرحلے میں مکڑی چپچپے سرے والا ایک دھاگا بن کر شکار کی گھات میں بیٹھ جاتی ہے۔بعد میں وہ اسی چپچپے دھاگے کو پھندےکے طور پر استعمال کرتی ہے۔ شکار کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے مکڑی ایک بہت خاص کیمیا خارج کرتی ہے۔یہ فیرومون کہلاتا ہے جسے مادہ پتنگے جنسی ملاپ یعنی سیکس کے لئے نر پتنگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔نر پتنگا جعلی آواز سے دھوکا کھا کر بو کے منبع کی جانب بڑھتا ہے۔ مکڑیوں کی قوتِ بینائی بہت کمزور ہوتی ہے لیکن وہ اڑتے ہوئے پتنگے سے پیدا ہونے والے ارتعاش کو محسوس کر لیتی ہیں۔یوں مکڑی شکار کو اپنی جانب بڑھتے ہوئے محسوس کر سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مکڑی تقریباً اندھی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود وہ اُڑتے ہوئے زندہ جانور کو اس دھاگے سے باآسانی پکڑ لیتی ہے جسے وہ ہوا میں لٹک کر بنتی ہے۔جانوروں سے متعلق ایک مشہور کتاب میں مکڑی کے اس شکاری طریقِ کار کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے پھندا پھینکتے ہوئے گایوں کے رکھوالے ’کاؤ بوائےسے تشبیہ دی گئی ہے۔
    ’’مکڑی ایک ریشمی دھاگا بنتی ہے اور پھر اس کے ایک سرے پر گوند کے بھاری ٹکڑے کی صورت میں ایک وزن رکھ دیتی ہے۔اس طرح یہ ہتھیار ہمیں کاؤ بوائے کی یاد دلاتا ہے۔اس کے بعد مکڑی دھاگے کو اپنی سامنے والی دو ٹانگوں میں،جو اب بازوؤں کا کام دیں گی، پکڑ لیتی ہے۔ جب پتنگا پاس سے گزرتا ہے تو مکڑی پھندا پھینکتی ہے۔چپچپا وزنی سرا اُڑتے ہوئے کیڑے کے جسم سے ٹکرا کر اس سے چپک جاتا ہے اور مکڑی پتنگے کو اپنی طرف کھینچ کر اسے لپیٹ دیتی ہے۔‘‘
    شکار کرنے کا دوسرا مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب شکار بو سے دھوکا کھا کر مکڑی کی جانب بڑھتا ہے۔ اپنی ٹانگیں پیچھے کی جانب لے جا کر مکڑی حملہ کرنے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے اور چشم زدن میں پھندا پتنگے کی طرف پھینکتی ہے۔دھاگے کے سرے پر لگے چپچپے گولے سے پتنگا چپک جاتا ہے۔اب دھاگے سے شکار کو اپنی طرف کھینچ کر مکڑی اسے کاٹتی ہے جس سے وہ مفلوج ہو جاتا ہے۔اس کے بعد وہ پتنگے کو ایک خاص دھاگے سے لپیٹ دیتی ہے جو غذا کو طویل مدّت تک تازہ رکھتا ہے۔اس طرح مکڑی اپنے شکار کو بعد میں کھانے کے لئے محفوظ کر لیتی ہے۔
    پس جس چیز کو ایک سدھائی ہوئی پانی کی بلّی، ایک کتا، یا شیر نہیں کر سکتا، جسے ایک بڑا بن مانس بھی نہیں کر سکتا، جو کام ایک کاؤ بوائے کو بھی مشکل معلوم ہوتا ہے، یہ حقیر کہلائے جانے والا جانور(باآسانی)کر لیتا ہے۔
    چنانچہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بولاس مکڑی کا شکار کرنے کا طریقہ ایک خاص مہارت کا طالب ہے اور مسلسل مشق کے ذریعے اس طریقے میں تجربہ و مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔اگر ہم اس عمل کا درجہ بہ درجہ جائزہ لیں تو مکڑی کی حرکات کی پیچیدہ نوعیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ آئیے اس سوال کے جواب پر نظر ڈالتے ہیں کہ ’شکار کرتے وقت بولاس مکڑی کو کیا کچھ کرنا ہوتا ہے؟‘
    * مکڑی دھاگے کے سرے پر ایک چپچپا گولا تیار کرتی ہے۔
    *وہ اپنے جسم میں ایک ایسی بو تیار کر کے باہر خارج کرتی ہے جو دوسری نوع کے مکوڑوں کی مادہ نر کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے خارج کرتی ہے۔
    *اس کے بعد چشم زدن میں پھندے کو شکار کی طرف پھینکتی ہے۔
    *وہ پھندے سے شکار کا نشانہ باندھ کر اس پر ضرب لگاتی ہے۔
    * آخر میں شکار کو تازہ رکھنے کی غرض سے مکڑی ایک خاص قسم کا دھاگا بنتی ہے جس میں وہ شکار کو لپیٹ دیتی ہے۔
    تو بولاس مکڑی کس طرح اتنے با کمال منصوبے کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے؟منصوبہ بندی کرنا ان جانداروں کا خاصا ہے جو سوچنے سمجھنے کی طاقت رکھتے ہیں جیسے کہ انسان۔ علاوہ ازیں مکڑی کے دماغ میں ان سب باتوں کا ادراک کرنے اور انھیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔لیکن پھر ایسی صورت میں مکڑی کو حیرت انگیز صفات والا طریقۂ شکار کیسے حاصل ہوا؟یہ وہ سوال ہے جس کا سائنسدان آج تک جواب تلاش کر نے کے لئے کوشاں ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.