ملازمت کے پہلے دن ہی انتقال کر جانے والے پاکستانی کی افسوسناک کہانی

131

اگر وہ ہم سے رابطہ نہ کرتا تو ہم اس تک پہنچ بھی نہ پاتے— ملازمت کے پہلے دن ہی انتقال کر جانے والے پاکستانی کی افسوسناک کہانی

"اگر وہ ہم سے رابطہ کر کے اپنے بارے میں نہ بتاتا تو شاید ہم اس تک پہنچ بھی نہ پاتے اور اس کی لاش بھی نہ ملتی نہ ہی ہمیں کبھی معلوم ہو پاتا کہ اس جگہ کسی کی موت ہوئی ہے”- یہ جملہ ایک جاسوس انسپکٹر نے اس وقت کہا جب ایک پاکستانی شہری سڈنی کے مضافاتی علاقے گلنوری میں سیلاب کے پانی میں ڈوب کر انتقال کر گئے۔ مرنے والے نوجوان کا نام ایاز یونس ہے جو پاکستان کے شہر کراچی کے ملیر کینٹ کا رہائشی تھا اور سافٹ وئیر انجینئر کی تعلیم حاصل کررہا تھا۔ جس دن یہ جان لیوا حادثہ پیش آیا اس روز یونس کا اپنی ملازمت پر بطور کنٹریکٹر پہلا دن تھا – یونس گاڑی چلاتے ہوئے سیلاب کے پانی میں پھنس گئے تھے اور گاڑی سے باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی۔

پاکستانی کی افسوسناک کہانی

مقامی پولیس کے مطابق یونس نے صبح 6 بجے ہنگامی خدمات طلب کی تھیں اور کافی دیر ہم سے رابطے میں رہا لیکن جب رات کے ایک بجے ہم اسے ڈھونڈتے ہوئے جگہ پر پہنچے تو وہ دم توڑ چکا تھا۔ اب ہم محض قیاس آرائی کرسکتے ہیں کہ یونس کو اس جگہ کے بارے میں مقامی لوگوں کی طرح معلومات نہیں تھیں ورنہ وہ یہاں کبھی نہیں آتا۔ ایاز یونس گاڑی کی کھڑکیوں کا شیشہ بھی نہیں توڑ سکے جس سے وہ باہر آکر اپنی جان بچا سکتے تھے. پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسی روڈ پر سفر نہ کریں جس کے بارے میں آپ کو پہلے سے معلومات نہ ہوں۔ 

یہ بھی پڑھیں:انسانی حقوق تنظیموں نے یونان سے بڑا مطالبہ کر دیا

پاکستان ایسوسی ایشن آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے فرحت جعفری نے بتایا کہ انھوں نے ایاز یونس کے والد سے بات کرکے انھیں اس حادثے کی اطلاع دے دی ہے اور ان کے والد نے اہنے بیٹے کی لاش کراچی بھجوانے کی درخواست کی ہے جس پر مسٹر جعفری نے قونصل جنرل سے اس معاملے کا جائزہ لینے کی درخواست کردی ہے اور پاکستان ایسوسی ایشن آسٹریلیا کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ مرحوم ایاز یونس کے لواحقین میں دو بھائی اور ایک چھوٹی بہن شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.