انڈین سوشل میڈیا پر ’ابا جان‘ کے قصے کیوں سنائے جا رہے ہیں؟

2

میرے والد 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ میں لڑے۔ ایک سپاہی کی حیثیت سے انھوں نے انڈین فوج میں بہادری اور عزت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے این ڈی اے اور آئی ایم اے میں تربیت بھی لی۔ وہ انڈین فوج سے ڈپٹی چیف کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔

ٹوئٹر پر یہ پوسٹ شائرہ شاہ حلیم نے لکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے فوج کی وردی میں اپنے والد کی تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔

#AbbaJaan ‘ابا جان ہیش ٹیگ’ انڈین سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور لوگ اس ہیش ٹیگ سے اپنے اپنے والد کے بارے میں کہانیاں سناتے ہوئے انکی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

ایسا کرنے والوں میں مسلمان اور ہندو سمیت کئی مذاہب کے لوگ شامل ہیں اور اس ٹرینڈ کا پس منظر اتوار کو اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خطاب سے جڑا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی متنازعہ تقریر

یوگی آدتیہ ناتھ نے کشی نگر میں ایک ریلی کے دوران سابقہ حکومتوں پر مسلمانوں کو خوش کرنے کا الزام لگایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے بلا امتیاز ہر غریب کو ٹوائلٹ اور راشن فراہم کیا۔

یوگی نے کہا ‘کیا یہ راشن 2017 سے پہلے بھی ملتا تھا؟ تب تو ابا جان کہنے والے لوگ سارا راشن ہضم کر جاتے تھے’۔تب کشی نگر کا راشن نیپال اور بنگلہ دیش پہنچ جاتا تھا’۔

انھوں نے کہا ‘اب کوئی بھی غریبوں کا راشن نگل نہیں سکے گا، وہ راشن نگل نہیں سکیں گے ، بلکہ جیل جائیں گے۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کو فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی سیاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔
اباجان ایک خوبصورت لفظ ہے گالی نہیں

اس کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کے خلاف بطور احتجاج ٹوئٹر پر لوگوں نے اپنے والد کے بارے میں پوسٹ ڈالنی شروع کر دیں۔

ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ‘اباجان کا مطلب عزیز باپ ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو لگتا ہے کہ اس طرح کے خوبصورت الفاظ کو گالی کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے’۔

‘یہ معاشرے کے ایک طبقے کا وقار چھیننے اور خوبصورت لفظوں کو بدلنے کی کوشش ہے۔ہر وہ شخص جو اپنے والد سے محبت کرتا ہے یوگی آدتیہ ناتھ کو بتائے کہ اباجان گالی نہیں ہے’۔

صحافی آلیشان جعفری نے لکھا ، ‘ہم اپنے والد کے لیے عزت اور محبت کے اظہار کے لیے ‘ہمارے اباجان’ کہتے ہیں لیکن کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس مہم کا حصہ بنیں۔ اپنے اپنے اباجان کی تصویر اور کہانی شیئر کریں۔’

ڈاکٹر قاضی ارشد حسین نے اپنے والد کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ ‘میرے والد نے اپنی زندگی محنت کرتے ہوئے گزاری اور مجھے ایک اچھا ڈاکٹر بننے کا راستہ دکھایا’۔

شاہ عالم خان نے اپنے والد کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کی اور مضحکہ خیز انداز میں لکھا ،’یہ ہم ہیں ، یہ ہمارے اباجان ہیں اور یہ ہماری ‘پاری’ (پارٹی) ہو رہی ہے۔ ٹرولرز پارٹی میں مدعو نہیں ہیں’۔

یوگی آدتیہ ناتھ کو مخاطب کرتے ہوئے سمریدھی نے لکھا ‘اگر آپ وزیر اعلیٰ ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سب کی طرف سے کچھ بھی بول سکتے ہیں۔ میں اپنے ماتا پِتا کو ابا اور امی کہنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گی ، جی ہاں ، میں ایک ہندو ہوں اور آپکو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اباجان کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس پر سیاست کی جائے’۔

پوجا پریمودا نے لکھا ، ‘میرے والد تقسیم ہند سے پہلے انڈیا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اردو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ انہوں نے مجھے اباجان جیسے بہت سے خوبصورت الفاظ سکھائے ہیں’۔

فلمساز انوشہ رضوی نے لکھا ، ‘میرے ابا جان نے مجھے جیاسی ، سورداس اور کبیر کی نظمیں سکھائی ہیں۔ ایک تحقیقی جریدے کا نام ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔’

صحافی نغمہ سحر نے ٹوئٹ کیا ‘میرے اباجان انڈین عدلیہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں بطور جج خدمات انجام دیں۔ مجھے ان پر فخر ہے’۔

مختلف پارٹیوں کے قائدین نے بھی یوگی آدتیہ ناتھ کے متنازعہ بیان پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے لکھا ‘میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ بی جے پی فرقہ پرستی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے سوا کسی اور ایجنڈے پر الیکشن نہیں لڑنا چاہتی’۔

انہوں نے کہا ‘یہاں ایک وزیراعلیٰ ہے جو دوبارہ منتخب ہونے کے لیے کہہ رہا ہے کہ مسلمانوں نے ہندوؤں کا راشن کھا لیا’۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے اور کیا کہا؟

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہر طبقے کے لوگوں کے لیےترقی کے راستے کھولے ہیں سب نے ترقی کی ہے کسی خاص طبقے کی خوش آمد نہیں کی گئی۔

انھوں نے کانگریس ، بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی جیسی اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ’اتر پردیش میں کیا کمی تھی؟ بیماری، بے روزگاری ، مافیا راج اور بدعنوانی کے علاوہ یہاں کانگریس ، ایس پی اور بی ایس پی نے بد عنوانیوں کے علاوہ ریاست کو کیا دیا؟’

انہوں نے کہا کہ ‘اگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جاتا تو کانگریس پچھلے انتخابات میں سات نشستوں تک محدود نہیں رہ جاتی۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کانگریس کو ‘دہشت گردی کی ماں’ بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ‘کانگریس ملک میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ ملک کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر بی جے پی ہے تو ہر ایک کا احترام ہے ، عقیدے کا احترام ہے۔’

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.